آخری سفر۔۔
تحریر: نمرہ پرکانی
شہید درجان پرکانی کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہو گیا
(18 جنوری 2020 کو کراچی جاتے ہوئے، لسبیلہ کے قریب شہید در جان پرکانی کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی اور وہ اس خونی شاہراہ پر اپنی جان کی بازی ہار گئے۔)

شال کا موسمِ سرما کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔۲۱ جنوری ۰۲۰۲ میں شال میں اُس سال کی پہلی برف باری ہوئی۔ چونکہ بابا جان کو تصویر کشی کا بے حد شوق تھا،وہ پہلے برف باری کی تصویریں گھر کے ہر کونے سے لیتے گئے اور پھر آ کر ہمارے کمرے میں ہمیں جگانے لگے۔میں نے آنکھ کھولی تو بابا جان اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ خوشی خوشی مجھے بتانے لگے کہ باہر تو دیکھو کتنی زیادہ برف پڑی ہے۔ہم سب جاگ گئے، گھر سے باہر نکلے، برف سے خوب کھیلا، ایک دوسرے کو برف کے گولے مارے، تصویریں لیں اور پھر بابا جان کے بہت زیادہ اسرار پر واپس گھر میں آگئے کیونکہ باہر ٹھنڈ بہت زیادہ پڑ رہی تھی۔بابا کو ہم نے بہت مِنّت کی کہ ہمیں باہر گھمانے لے جائیں لیکن چونکہ اُن کے اردگِرد بی۔اے کے پرچوں کا امبار لگا ہوا تھا تو انہوں نے ہمیں باہر لے جانے سے انکار کر دیا۔
کچھ ہی دنوں میں ہماری تیاری کراچی جانے کے لیے ہوئی۔بابا نے گاڑی کراچی جانے سے ایک ہی ہفتہ پہلے بدلی تھی۔ اُنکو یہ گاڑی مستری کو دکھانی تھی گویا لمبے سفر پر نکلنے سے پہلے گاڑی میں کوئی بھی خرابی ہو تو وہ ٹھیک کر دی جائے۔ مستری کی دکان پر بابا کی ملاقات اُن کے بڑے بھائی سے ہوئی۔ وہاں انہوں نے بابا کو بتایا کہ ہم پرسوں یعنی ہفتے کے دن کراچی کے لیے نکل رہے ہیں۔ بابا نے اُن سے کہا کہ ہماری بھی کراچی جانے کی تیاری ہے، چلو اب کی بار ایک ہی دن نکلتے ہیں۔ بابا نے اُسی وقت ہمیں فون کر کے بتایا کہ اپنی تیاری مکمل کر لو ہم ہفتے کے دن نکل رہے ہیں۔ ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا کہ ہم اور تایا والے ایک ہی روز کراچی کے لیے نکل رہے تھے۔
۸۱ جنوری ۰۲۰۲،ہفتے کے دن ہمیں صبح 7:30 بجے تک نکلنا تھا لیکن بابا نے تایا کو فون کر کے بعلا کہ سردی کی وجہ سے برف روڈ پر جمی ہو گی، تھوڑی دیر صبر کرتے ہیں تاکہ دھوپ نکل آئے اور روڈ پر جمی برف پھگل جائے۔دھوپ نکلتے ہی ہم سفر کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہم سب نے سفر کی دعائیں پڑھ لیں۔ اب ہم اور تایا والے ساتھ ساتھ کراچی کی طرف اس خونی شاہراہ پر چل پڑے۔
اب ہم مستونگ کے قریب ہی پہنچے تھے کہ ہم نے ایک مسافر کوچ دیکھی جس کا ایکسیڈنٹ ہو چکا تھا۔وہیں سے اس موضوع پر بات شروع ہوئی، پھر ہم نے راستے میں جہاں جہاں ایکسیڈنٹ شُدہ گاڑیاں دیکھیں، بابا ہمیں ان کی تفصیل بتاتے رہے۔
چونکہ اس پورے سفر میں ہماری گاڑی رُکتی رہی، کبھی گاڑی کا کوئی تار نکل جاتا، کبھی پٹرول ختم ہو جاتا جس پر بابا نے کہا ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ کوئی اتنے لمبے سفر پر نکلے ہوں اور راستے میں پٹرول ختم ہو جائے۔ اب یہ علاقہ ایسا تھا جہاں کوئی پٹرول پمپ قریب نہ تھا لہذا ہمیں اپنی گاڑی تایا کی گاڑی کے ساتھ ٹوچین کرنی پڑی۔ اس دوران ہم بابا کو خوب چھیڑتے رہے، ہنسی مزاق کرتے رہے کہ بابا اس سے پہلے والی گاڑی اتنی اچھی تھی بلاوجہ کیوں بیچ دی۔ خیر کرتے کرتے ہم قلات پہنچ گئے۔ ایک پٹرول پمپ پر گاڑی میں پٹرول ڈلوایا۔وہاں بابا نے اپنے ایک دوست کامریڈ رشید، جن کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے،ان کو فون کیا۔ (ہم جب بھی کسی علاقے سے گزرتے، بابا اپنے ان علاقوں میں رہنے والے دوستوں کو ضرور فون کرتے کہ ہم آپ کے علاقے سے گزر رہے ہیں۔) بابا نے کامریڈ رشید کو بتایا کہ میری گاڑی بہت مسئلہ کر رہی ہے یہاں کوئی مستری ہے تو دکھا دوں۔ وہ خود تو قلات میں نہیں تھے البتہ ان کا حوالہ دیتے ہوئے ہم نے کسی مستری کو گاڑی دکھا دی، انہوں نے انجن دیکھا اور بتایا گاڑی میں کوئی مسئلہ نہیں، صرف پلگ میں کچرا پھنساہوا ہے، انہوں نے وہ صاف کر دیا اور ہمیں خیرباد کہہ کر رخصت کر دیا۔
ہمارا ارادہ تھا کہ ہم خضدار پر دوپہر کا کھانا کھا ئیں گے۔ چونکہ ہم راستے میں گاڑی کی وجہ سے کئی دفعہ رُکے تو ہم خضدار تک کافی دیر سے پہنچے۔ خضدار پہنچ کر بابا جان اور تایا نماز پڑھنے گئے۔ ہم نے ابھی پانی ہی پیا تھا کہ اچانک ایک زور دار آواز آئی۔ جیسے کوئی گاڑی ہماری گاڑی سے آکر ٹکرا گئی ہو۔ ہوٹل میں موجود تمام افراد اُسی طرف بھاگے۔ وہاں جا کر دیکھا تو ہائی وے پر کسی گاڑی کا بریک فیل ہو گیا تھا اور وہ گاڑی ہماری کار کے ساتھ ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی اور ہماری گاڑی کچھ قدم کے فاصلے پرہی بچ گئی تھی۔ بابا نے اُسی وقت اپنی جیب سے ۰۰۱ روپے نکالے اور ہم سب کے سَر پر پھیرا تاکہ صبح سے کبھی گاڑی خراب ہو رہی تھی، کبھی پٹرول ختم ہو رہا تھا تو کبھی گاڑی ایکسیڈنٹ ہوتے بال بال بچ جاتی ہے۔
بابا نے کہا آگے کوئی مسجد تعمیر ہو رہی ہے صدقے کے پیسے وہیں دے دینگے۔ دوپہر کا کھانا کھایا اور ہم چل دیے۔ بابا کا طنز و مزاح پورے سفر چلتا رہتا۔ کبھی کوئی گانا میرے نام پر گنگناتے کبھی ایرج تو کبھی زاعمُران کے نام پر۔ بابا مجھے اور ایرج کو‘‘کنا مار’’(براہوی: یعنی میرا بیٹا) کہہ کر پکارتے تھے اور زاعمُران کو‘‘کنا یار’’(یعنی میرا دوست)کہتے تھے۔ لسبیلہ کے قریب ہم شیشہ ہوٹل پر چائے پینے کے لیے رُکے۔ چائے پینے کے بعد ہم پھر سے روانہ ہوئے۔ اس وقت آسمان میں بادل اس قدر خوبصورت سرخ رنگ میں پھیل گئے اور ہم وہی دیکھتے رہے، کہ اللہ کی قدرت تو دیکھو، بابا نے مجھے کہا کہ کنا مار میرے موبائل میں اسکی تصویر کھینچو۔ میں نے پہلے اُن کے موبائل سے اور پھر اپنے موبائل سے تصویر لی اور اُسی وقت سوشل میڈیا پر ڈال دیا اور یہ ایکسیڈنٹ سے پہلے میرا آخری پوسٹ تھا۔ اب ہم آسمان کی خوبصورتی ہی دیکھ رہے تھے کہ گاڑی میں موجود سب نے چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ میں نے سامنے کی طرف فوراً دیکھا تو ایک ٹرک نے بہت ہی قریب آ کر اوور ٹیک کیا تھا۔ اس خونی شاہراہ پر روڈ اتنی تنگ ہے کہ گاڑی سائڈ سے نکل ہی نہیں سکی حلانکہ بابا نے گاڑی دائیں طرف موڑی تھی کہ شاید ہم بچ سکیں۔ ٹرک ڈرائیور اس قدر بے حس تھا کہ اُس نے بریک بھی نہ ماری اور ہماری گاڑی کو کُچلتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کی۔ یہ بھی ہماری قسمت اچھی تھی کہ تایا والوں کی گاڑی ہم سے پیچھے تھی۔ انہوں نے ٹرک کے سامنے اپنی گاڑی کھڑی کی اور فوراً ہماری طرف بھاگے۔ ٹرک ڈرائیور موقعہ سے فرار ہو گیا تھا۔
بابا جان موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ میں اُس وقت صدمے کی وجہ سے بے ہوش تھی۔ میری جب پہلی دفعہ آنکھ کھلی تو میں ایمبولینس میں موجود تھی اور میرے ساتھ ہی بابا کو لٹایا گیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے یہ سب خواب ہی لگا۔ پھر مجھے یوں لگا کہ کُچھ تو ہوا ہے جسکی وجہ سے میں شدید زخمی ہو گئی ہوں جبکہ بابا جان زیادہ زخمی نہیں ہیں وہ صرف بے ہوش ہیں کیونکہ اُن کے ظاہری زخم زیادہ نہیں تھے۔ اور میں پھر سے بے ہوش ہو گئی۔ میری آنکھ واپس تب کُھلی جب میں نے خود کو ہسپتال میں پایا۔ چیخ و پکار کی آوازیں ہر طرف گونج رہی تھیں۔ میرا چہرہ خون میں لت پت تھا اور امی مجھے دیکھ نہیں پا رہی تھیں۔ اُنکی صرف آواز میرے کانوں میں آئی؛ وہ روتے ہوئے ڈاکٹرز کو بول رہی تھیں کہ تم لوگ میری بچی کا مُنہ سلائی کر رہے ہو، یہ کیا ہو گیا ہمارے ساتھ۔ انکو اُس وقت اپنی پرواہ نہی تھی، کبھی بابا جان کے پاس دوڑتے ہوئے جاتی، کبھی ایرج کے پاس، کبھی زاعمُران کے پاس تو کبھی میرے پاس۔
چونکہ حادثے میں مَیں زیادہ زخمی ہوئی تھی تو انہوں نے فیصلہ کیا کے نمرہ کو کراچی روانہ کرتے ہیں کیونکہ وہ قریب ہے ورنہ زیادہ خون بہہ جانے کے باعث میرا بچنا نا ممکن ہوتا۔ مجھے ایمبولینس میں بٹھانے سے پہلے امی نے صرف ایک بات کہی کہ؛
‘‘نمرہ تم اپنے بابا کی اور میری بہادر بیٹی ہو۔ تمہیں اچھے سے اس بات کا اندازہ ہے کہ ابھی ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ہم سب واپس تمہارے بابا کو کوئٹہ لے کر جائینگے۔ تمہارے زخم بہت زیادہ ہیں تمہیں کراچی جانا ہوگا۔ تم بہت بہادر ہو بلند حوصلوں کے ساتھ جانا‘‘
یہ لفظ بہ لفظ اُنکے الفاظ تھے۔
میں کراچی میں زیرِ علاج تھی اور اس کشمکش میں تھی کہ بابا زندہ ہیں یا نہیں۔ زیادہ زخمی ہیں یا کم۔ وہاں سب کو منع کیا گیا تھا کہ نمرہ کو بابا کی شہادت کی خبر نہیں دینی۔ ایک مہینے بعد جب میں کوئٹہ آئی تو گھر پہنچ کر سب سے پہلے بابا کا پوچھا کیونکہ باقی سب سے میری بات فون پر ہوئی تھی اور بابا سے یہ کہہ کر بات نہیں کرواتے کہ وہ زخمی ہیں، ہسپتال میں ہیں، ہونٹ بھی زخمی ہیں تو وہ بات نہیں کر سکتے۔امی نے میرے لیے ناشتہ تیار کیا تھا لیکن میں کچھ کھا نہیں پا رہی تھی اور بار بار ایک ہی سوال دُہراتی کہ بابا کہاں ہیں، انکو زیادہ چوٹ لگی ہے یا کم، کونسے ہسپتال میں ہیں۔ میرے بہت اسرار کرنے کے بعد امی مجھے بابا کے کمرے میں لے کر گئیں اور انکی کچھ چیزیں نکال کر میرے سامنے رکھ دیں اور کہا؛‘‘نمرہ تمارے بابا کی صرف یہ چیزیں ہمارے پاس رہ گئی ہیں وہ خود نہیں رہے۔‘
وہ لمحہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے پاؤں کے نیچے زمیں نہی رہی، میں چیخنا چاہ رہی تھی، رونا چاہ رہی تھی لیکن میرا جسم ٹھنڈا پڑ گیا، میری آنکھوں سے آنسو نہیں آرہے تھے، میرا گلا خشک ہو گیا۔ میں نے صرف اپنا باپ نہیں کھویا، وہ میرا دوست تھا۔ یوں زندگی اتنی حسین تھی اور چند سیکنڈ میں کتنی بدل گئی۔
اس روڈ پر آئے دن کئی ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں، یہ اہم شاہراہ سنگل ہے، اس پر ڈرائیونگ کرنے والوں کی کوئی چیک اور بیلینس نہی ہوتی، اس پر ٹریفک کا کوئی قانون لاگو نہی ہوتا جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ شہید ہو جاتے ہیں اور متعدد زخمی۔ کئی خاندان تباہ ہو گئے ہیں۔ کوئی ڈھونڈ کر تو واپس لائے شہید دُرجان پرکانی کو، ایسے ایسے نامور لوگ اس خونی شاہراہ کی نذر ہو گئے کہ اُن کا کوئی ثانی نہیں۔ مگر حکومت اس مسئلے کو سنگین مسئلہ نہیں سمجھ رہی۔ یوں تو بلوچستان کی سَر زمین کو سونا اُگلتی ہوئی سرزمین کہا جاتا ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں گڑی ہوئی ہیں، حکومت کھربوں روپے بلوچستان کے نام پر فنڈز لیتی ہے، مگر افسوس کہ پھر بھی ایک سنگل شاہراہ کو دو راہ نہیں بنا سکتے۔ یہ حال تو صرف ایک متاثرہ گھرانے کا ہے، ایسے ہزاروں گھرانے اور بھی ہیں، جو تباہ ہو گئے مگر حکومت اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے، تماشائی بنی ہوئی ہے۔