تحریر بسمل ندیم
افسوس سے کہنا پڑتھا ہیں کہ میرا صوبہ امیر ہیں لیکن اسکی عوام غریب اور لاچار ہیں
پورے پاکستان میں دیکھا جائے تو سب صوبوں سے امیر صوبہ بلوچستان ہیں جہاں کسی معدنیات کی کمی نہیں یہی سے سونا چاندی لال جواہر کوہلا گیس سنگ مرمر اور بہت سے معدنیات نکلتے ہیں لیکن یہاں کے عوام بےروزگار ہیں جائے تو کہاں جائے یہ عوام اپنے اگر محنت مزدوری سے کوئی دو وقت کی روٹی کماتا ہیں تو زندگی بمشکل گزار رئے ہیں لیکن بہت کم لوگ سرکاری ملازم ہیں جہاں سے گیس نکل رہا ہیں تو وہاں دفتروں پہ دیکھا جائے سب بڑے آفیسر پنجاب سندھ کے ہیں اور جہاں سے پتھر نکل رہا ہیں تو وہاں بھی بڑے بڑے آفیسر دوسرے صوبوں کی ہیں اور بلوچستان کے عوام یا تو وہاں مزدوری کرتے ہیں یا تو چوکیدار ہیں کیوں آخر بلوچستان کے لوگ جاہل ہیں کیا نہیں بلوچستان میں بھی تعلیم یافتہ لوگوں کی کمی نہیں بلوچستان کے عوام اپنے ڈگریاں گھوما گھوما کر تک گئے لیکن ان کو ایک چھوٹا سا سرکاری کام نہیں ملتا تاکہ اپنے زندگی گزار سکے تعلیم یافتہ جوانوں کو دیکھو کوئی گاڑی چلا کر ڈیزل سپلائی کرتا ہیں تو کوئی کھیتی باڑی کے کام کرتا ہیں کوئی سیکورٹی گارڈ بنا ھوتا ہیں تو کوئی کسی جگہ پر مالی ہیں اکثر اپنے جوانوں کو دیکھا ہیں اپنے زندگی سے کیھل کر کوہلہ کے کانوں پر کام کرتے ہیں اور گھر کو چلا رہا ھوتا ہیں افسوس یہی سونے یہی معدنیات سے تو پاکستان کا آدھا حصہ چل رہا ہیں لیکن بلوچستان کا وہ قدر نہیں جو قدر ھونا چاہیے تھا جو خاص او اہم چیز روڈ ہیں اسکا وہی آئی وے روڈ کتنے سالوں سے ڈبل نہیں ھوسکتا بلوچستان کے لوگ اس روڈ سے اپنے لاشیں اٹھا اٹھا کر تک گئے معصوم بچوں اور ایسے ایسے نوجوان جاچکے ہیں کہ اپنے گھر کے سائے اور گھر کو چلانے والے تھے ایسے ایسے ماں کے بیٹھے شہید ھوئے ہیں کہ اسکے علاوہ اس ماں کی اور کوئی ہیں نہیں صد افسوس ایسے ایسے والد بھی گئے ہیں اس روڈ پہ کہ وہ اپنے بچوں کے سایہ اور سب بچوں کی امیدے اسی ایک ہی اپنے والد پر تھے عوام نے بہت آواز بہت چیخیں مارے لیکن ایک روڈ نہیں بن سکتا جو انکے کام بھی آتا ہیں تو خاک عوام کو سنبھال لینگے اور روزگار دینگے
ایسے والد بھی ہیں جو رات کو سوچ سوچ کر نیند نہیں کرتے کہ کل کہاں سے جاکر کماوں اور اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی لاوں روڈ پر کھڑے بیلچے ہاتھ میں ھوتا ہیں کہ کوئی ہمیں لے جاکر کوئی کام کروائے اور اپنے گھر چلاوں ایسے پریشانیوں سے تو کچھ لوگ جان بھی گھوا بیٹھے ہیں
بہت دکھ ھوتا ہیں کہ سونے اور چاندی کے مالک ایسے درپدر ھوجائے دو وقت کے روٹی کیلئے کسی کے محتاج ھوجائے یہاں کوئی پڑھے بھی کچھ نہیں ملتا نا پڑھے تو ویسے کچھ نہیں ملتا اگر کوئی پڑھے بھی تو کوئی مزدوری کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا نا پینے کا صاف پانی ملتا ہیں نا عزت سے دو وقت کی روٹی ملتا ہیں خدارا ایسے ظلم بلوچستان کے عوام سے اٹھائے اگر سب کو روزگار نہیں دے سکتے تو ان کو روزگار دو جو لکھا پڑھا ہیں تاکہ اپنے زندگی اور اپنے بچوں کی تعلیمی چیزیں اور ضروری چیزیں پوری کرسکے
آپ یہ بھی پسند کریں