Ultimate magazine theme for WordPress.

(خوف و ہراس)

0

تحریر:ابرار احمد کرد مروی

اگر دیکھا جائے تو خوف ایک فطری احساس ہے ۔
خوف انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتا یے ۔حد سے زیادہ خوف پریشانی کا باعث بن جاتا ہے جس کی وجہ انسان دن بدن کمزور ہوتا چلا جائیں گا۔ اصل میں خوف ایک جسمانی بیماری نہیں ہے اکثر لوگ ہر طرح سے فٹ ہو کر بھی خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حساس زیادہ تر انسان کی داخلی مسائل میں الجھتا رہتا ہے ۔ انسان کو ہر چھوٹا مسلئہ بڑا نظر آنے لگتا یے ۔انکی سوچ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتے لگتے ہیں ۔بار بار ایک ہی بات کو مسلسل سوچنے سے وہ سوچ و خیال ذہن میں مزید پختہ ہوجاتے ہیں ۔
خوف کے بہت سے اقسام پوتے ہیں ۔
امتحان میں ناکامی کا خوف ،
کاروبار میں نقصان کا
رشتہ ٹوٹنے کا خوف
بیماری کا خوف انسان جب بھی بیمار ہو جاتا تو وہ ڈاکٹروں کے پاس جانے سے خوف کھاتا ہے یہ سوچنے لگتا ہے اب میں کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو جاونگا ۔
انسان جب خوف کھاتا ہے تو وہ اپنے لاشعوری خواہشوں سے ڈر محسوس کرنے لگتا ہے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے انسان جن جن چیزوں سے خوف محسوس کرتا ہے وہی چیز ذہن میں بار بار دوہراتا یے اور خواب میں بھی اسے وہی چیزیں نظر آنے لگتا ہے ۔
نفسیات کے جدید تحقیق کے مطابق ذہن کی سوچ اپنا راستہ خود بناتی ہے ۔خوف میں جس قدر پختگی ہوگی ویسے ہی حقیقت دریافت کر لے گی ۔اگر آپ اچھا سوچنے لگ جاو تو حقیقت بھی مثبت طریقہ اختیار کرے گا اور اگر آپ منفی سوچوں گے تو مستقبل بھی دشوار گزار راستوں میں ضم ہو جائے گا ۔
اکثر دیکھنے کو ملتا یے انسان جن چیزوں سے خوف محسوس کرتا یے ان چیزوں سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا یے ۔دور بھاگنا اسکی ڈر اور خوف کو مزید مظبوط بنایا یے ۔
خوف سے نجات انسان کو اس وقت ملتا ہے جب وہ اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے ۔مسائل کا حل نکالنے کی بجائے فرار حاصل کرنے کی کوشش اسکو مزید الجھا دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے اندھیرے کے خوف میں مبتلا لوگوں کو اندھیرے میں لے جاتا ہے ناکامی کا خوف انسان کو ناکام بناتا یے ۔ اگر آپ کسی طالب علم کو بار بار آپ یہ کہو تو آپ کچھ نہیں کر سکتے تو وہ اپنے آپ ناکام ہوجائے گا ۔
اگر کسی جنگ میں دشمن کی مقابلے میں آپکی فوج تعداد میں زیادہ ہو اگر انکے دل میں ہارنے کا خوف ہے تو وہ خود بخود ہار جائینگے۔
اصل میں یہ خوف ایک ذہنی کیفیت ہے یہ بدل بھی جاتے ہیں
اکثر لوگ بڑے بڑے امتحان سے خوف کھاتے ہیں ۔
سی ایس ایس ،پی سی ایس کے امتحان دینے سے اکثر طالب علم کتراتے ہیں۔ انکا مائنڈ سیٹ ایسا بنا ہے کہ یہ ایک بہت ہی مشکل ٹیسٹ یے اور وہ اس میں ایپلائے نہیں کرتے۔
اگر کچھ لوگ ایپلائے کرے بھی تو اسی خوف کی وجہ سے اسے پاس کر نہیں پاتے کیونکہ خوف نے ان کی ذہنوں پر پہلے سے ڈھیرا جما رکھا ہے ۔
اگر آپ خود کو کمزور اور مشکل کو مشکل تصور کرو گے تو آپ کبھی بھی کامیابی کے منازل تہہ نہیں کر پاو گے ۔
بہت کم لوگ خوف کی کیفیت کو اپناتے ہیں وہ خود کو کمزور اور بزدل کہلوانا نہیں چاہتے اور وہی لوگ بلاخر کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
ماہر نفسیات کہتے ہیں بچے کی پرورش حقیقت پسندانہ انداز میں کی جانے چاہیں تاکہ وہ زندگی کی تبدیلیوں کو آسانی سے قبول کرے ۔
خوف کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں خود انسان کو تغیر عطاء کرتا یے ۔ وہ اس کیفیت سے لڑنے کے لئے راستہ بدلنا شروع کرتا یے ۔وہ تخلیق کا سہارا لینے لگتا یے ۔
یہ سچ ہے حقیقت پسندانہ سوچ اور ناپسندیدہ حالات سے سامنا کرنے کی جرآت انسان کی زندگی بدل دیتی ہے ۔ کامیاب انسان خوف کا مقابلہ کرتا بلکہ بزدل اور کمزور اس سے دور بھاگنے کی کوشش میں ہوتے ہیں ۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.