تحریر :- محمد فاروق پندرانی
(بلوچستان میں جاری مذاحمت)
بلوچستان کی فضائےآج پھر سوگ وار ہیں۔آج بھی سورج کی کرنے دھندلارہی ہیں مگر اس امید سے کہ شاہد رات کی تاریکی کے بعد اب دن کا اجالے بہت قریب ہیں ۔بلوچستان کی جیوگرافی اور اسکی رقبہ ساحل وسائل معدنی زخاہر لازوال ہیں۔بلوچستان میں جاری شورش جدوجہد مذحمت کو تقریباً 76سال ہونے کو ہے۔مگر اکثر ریاست میں موجود سماجی ریاستی معاشراتی عہدے داران حالات کا رخ کہی اور موڈ دیتے ہیں بنیادی وجوہات اور انسانی بقاء پر کوئی توجہ نہیں جدید ریاست کے پانچ بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ جن میں زمین، آبادی، حکومت،خدمختیاری، خارجہ پالیسی،وغیرہ شامل ہے۔اگر ہم خدریاست کے ان ستون کی بات کرے تو ان میں ریاست کا زمین متنازعہ ہے تمام حکومت غیرفعال مدت پوری ہونے سے پہلی اسمبلیاں تحلیل ہوجاتے ہیں خدمختیاری کا عالم یہ ہے کہ فیصلوں پر اندرونی اور بحرونی طاقتیں ہاوی ہوجاتے ہیں خارجہ پالیسی موجود ہی نہیں یعنی آدھی ادھوری ریاست جہاں انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں جہاں کوئی بھی عہدہ یاپوزیشن اپنی اصل حالت میں موجودنہیں ہے ۔ا
نہی کی بدولت آغا عبدالکریم کی مذحمت سے لے کر آج تک یہ مذحمتیں جاری ہیں۔لیکن حالیہ لانگ مارچ تربت سے شروع ہوئی جب بالاچ نامی نوجوان کو شہید کیا گیا۔ اور ایک بار پھر مذہبی کارڈ کا استعمال کیا گیا کہ بالاچ زکری مذہب سے تعلق رکھتاہے جس کا جنازہ نا پڑھایاجاہے ریاست ہمیشہ انہی مذہبی کارڈ کے زریعہ عوام کو مشتعل کرتاچلاآرہاہے مگر بلوچستان میں اول دن سے اس بیانیہ کو مسترد کیاگیا۔ جو بلوچستان میں شعور کی واضع مثال ہے
اب شاہد اس امید سے کہ یہ تاریغی لانگ مارچ انقلاب برپاکریگا۔ کیونکہ اب پسماندگان پر امن طریقہ سے اپنے اوپر ظلم بے بسی ناانصافی لاچارگی کا اظہارکرتے ہوئے اسلام آبادی کی طرف مارچ کررہےہیں مگر ہر مقام پر رکاوٹوں اور لاٹھی چارج کا سامنہ کرناپڑھ رہاہے گزرشتہ 21دسمبر کےدرمیانی شب اس لانگ مارچ کو اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب روکاگیا جہاں کچھ دیر بعد واٹرکینین لاٹھی چارج آنسوگ گیس اور 32افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں لاپتہ افراد کی لواقین شامل تھے۔
متحدہ بین اقوامی ادارہ یعنی یونائٹڈ نیشن کے بین اقوامی اصول جو تمام ممبر مالک میں لاگوہوتے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہیں۔ ان اصول کی غلاف ورزی پر ادارہ سختی سے نوٹس لیتاہے مگر آرٹیکل 19کی اول دن سے ریاست نے پامالی کی ہے جس کو آزادی اظہار رائے کہتے ہیں۔اس کے علاوہ فریڈم انڈیکس میں پاکستان 100میں سے 37ویں نمبر پر ہے گلوبل جینڈر انڈیکس میں 156میں سے ،153نمبر پر رپوٹرز ودبورڈرز میں 180میں سے 158نمبرپر موجود ہیں جہاں 2001 سے اب تک 64صحافی مارے جاچکے ہیں
بلوچستان ریاست قلات کا الحاق کے بعد سے سے چار شخصیتوں جن میں میر غوش بخش بزنجو نواب خیر بخش مری سردار عطاء اللّه مینگل اور نواب اکبر بگٹی شامل ہیں۔ جنہوں نے نظریاتی سیاست کی بلوچستان کی بقاہ کے لیے ریاست کا ساتھ بھی دی لیکن ریاست پاکستان نے انہیں ہمیشہ مایوس کیا۔
جہاں نواب غیر بخش میں مری انتہائی سنجیدہ اور مختلف لیڈر تھے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہتے ہوئے بھی کبھی پارٹی کی سیاست نہیں کی وہ خد جمہوری سیاست پر یقین رکھتے تھے وہ شروع سے ہی ریاست کی غیر سنجیدگی کا اندازہ لگا چکے تھے۔کیونکہ وہ حقیقی اختیارات چاہتے تھے کرسی کی چاہ نہیں۔
پاکستان میں اب تک تین آہین معطل ہوچکے ہیں اور جبکہ 1973کے آہین میں اب تک ترامیم کی جارہی ہیں۔ جبکہ نواب مری نے اسی وقت نامکمل آہین پر دستخط نہیں کی جہاں آج تک طاقتں اس میں الجھے ہوئے ہیں اور کبھی پارلیمانی اور کبھی صدارتی طرز حکومت چاہتےہیں۔
بلوچستان میں آج تک کہی بنیادی مسائل پاہے جاتے ہیں جن کا حل شاہد ریاست کو تقسیم ہونے سے بچاسکتاہے۔جس کا حل کبھی بھی یک طرفہ بیانیہ سے نہیں نکلے گا بلوچستان میں غربت بھوک و افلاص بے روزگاری اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے سنگین مسائل آج تک موجود ہیں لیکن بلوچ مسنگ پرسنز انتہاہی اہم مسائلہ ہے ریاست کو ان کی وجوہات کو دیکھنے چاہئے حقوق کی عدم فرہمی کی بنیاد پر مذحمت کاروں کو غاہب کرنا اور نام نہاد کمیشن کے زریعہ فیصلہ کرنا غیر آہینی ہے
اس پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے یک طرفہ بیانیہ کے بجائے سنجیدہ فیصلے کرنے چاہئے۔
حکومت مسنگ پرسنز کی شمار صرف چند ایک سومیں بیان کرتی جبکہ ان کی تعداد کہی ہزاروں میں ہے۔جہاں ان میں کہی رجسٹریشن ریاست کے خوف سے نہیں ہوتی ہیں عوام ہمیشہ طاقت ور ہوتی ہیں جس کی مثال امریکہ برطانیہ اور روس جو اپنی وقت کی طاقتیں تھی جہاں ان کی قالونیاں دنیا بھر میں موجود تھی مگر آج سنجیدگی سے روس جیسے ملک بھی ترقی کے منازل طہ کررہاہےریاست جن حکمت عملی پر کام کررہی ہے وہ زوال پزیر ہوئی۔
آج پھر 1971کے واقعات دورہیں جارہےہیں پاکستان کے ایک اہم سیاست دان جنہوں نے 71کے آہین بنانے میں اہم کردار ادا کیاجن کا نام خان عبدالولی خان تھا جہاں کتاب ولی خان اور قراردادپاکستان میں انٹرویوں درج ہے وہ کہتے ہیں جنرل ایوب نے ان سے کہا ولی خان بنگالیوں سے جان جھڑاہوں وہ ہر وقت حقوق کی بات کرتےہیں ۔جوابن ولی خان نے جنرل ایوب سے کہا ایسا ہر گز نہیں ہوگا کہ ہم ریاست کو تقسیم کرے بلکہ ہم ان طاقتوں کا ساتھ دینگے جو ریاست کے فلاح کے لیے ہو پھر ولی خان نے کہا کل آپ کہوگے کے صوبہ سرحد سے جان چھڑاہوں۔اس کے بعد رائو فرمان علی اپنی کتاب پاکستان گوٹہ ڈواہڈ میں لکھتے ہیں کہ کس طرح پاکستانی فوج بنگادیش میں اپنے زاتی قید خانوں میں بنگالیوں کو قید کرتھے اور انہیں عدالت میں بھی پیش نہیں کی جاتی تھی۔ میجر جنرل ابوبکر اس وقت کے بانی ایس ایس جی تھے۔اپنی کتاب بمبئی سے جی ایچ کیوں تک میں لکھتے ہیں کہ میرے پاس تین لوگ آئے جن میں خواتیںن بھی تھے جن میں کسی کے شوہر کو غائب کیا گیا تھااور کسے کے بیٹے کو اغواءکیا گیا تھا جنرل ابوبکر کہتے ہیں کہ وہ حمید اور ڈی ایم کو مسلسل آگاکرتھا رہامگر کوہی ردے عمل سامنے نہیں آئی۔
1971کے جنگ میں 93ہزرا فوجی اور سولین جنگی قیدی بنے کتابوں کے مطابق جنرل نیازی جو انتہائی ڈرپوک آدھی جو پاکستانی فوج کو لیڈ کررہےتھے بنگلہ دیش میں جن کو سیز فائر کی حکم ہوا تو اس نے ڈاہریکٹ ہتیارڈال دیے جن ملکوں کے فوج سرحدوں کے بجائے کمرشلیٹی کو اہمیت دے کاروبار کرے وہ فوج ملک کے بجٹ اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتاہے
دسمبر 2023میں ایک بار پر دسمبر 1971والے واقعات دورہےجارہےہیں وہ بلوچ جو حقوق کی بات کرتےہیں وہ مسنگ ہوجاتے ہیں سوہی اور ریکوڈک اس کی اعلیٰ مثال ہے کہ کس طرح ریکوڈک میں پاکستان نے TCC کمپنی کے ساتھ مل کر معدنی کرپشن کی اور پھر پاکستان کو عالمی عدالت میں جرمانہ کا سامنہ بھی کرنا پڑا جس کا بوج پھر سے بلوچستان پر ڈالاگیا
بلوچستان میں کہی سنجیدہ بنیادی مسائل پاہے جاتے ہیں جن میں بلوچ مسنگ پرسنز شامل ہے بلخصوص بلوچ مسنگ پرسنز کا مسائلہ سیاسی طور پر ممکن نہیں کیونکہ پاکستان میں آزاد ریاست کا تصور ممکن نہیں جب تک ریاست فوجی یا سنڈیمن نظام کو ختم نہ کرے ۔بنیادی حقوق کی پر شفاف فراہمی صوبائی قومی اسمبلی سمیت سنیٹ میں بلوچ عوام کی براہ راست نماہندگی خدمختیار عدالت بیروکریسی سمیت تمام تر صوبائی اختیارات پر شفاف اور عوامی ہونے چاہئے ورنہ عامروں کی حکم کی تکمیل کی صورت میں شاہد ریاست مذید تقسیم ہو