Ultimate magazine theme for WordPress.

منشیات کی لعنت جس نے زندگی تاریکیوں میں ڈال دیں

0

تحریر: سید ضیاء آغا
معاشرے میں منشیات کے عادی افراد جس کو دیکھتے ہی لوگ پہچان جاتے ہیں منشیات اس معاشرے کا سب سے بڑا ناسور ہے اوراس کوایک لعنت کہاجائے تو بھی غلط نہ ہوگا لیکن بدقسمتی سے وہ لوگ جونشے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں انہیں بہت کمتر نگاہ سے دیکھاجاتاہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہے انسان دنیا میں جو بھی ہو کسی بھی رنگ ونسل سے تعلق رکھتا ہو انسان ہی کہلاتا ہے اور دنیا کا کوئی بھی مذہب انسانیت سے بڑھ کر نہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ان انسانوں سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہے جوکہ سراسر انسانیت کے منافی ہے دنیا کے ترقی پذیر ممالک جو اس لعنت کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں اور بہت زیادہ ترقی حاصل کرچکے ہیں اس لعنت کو ختم کرنے میں لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس لعنت کو ختم کرنے کی بجائے اس کو اور پروان چڑھایا جارہاہے اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے والے کا منہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا جاتا ہے کیونکہ یہ مافیا اتنی طاقتور ہے کہ وہ جو چاہیے وہ کرسکتی ہے پاکستان بلخوص بلوچستان میں یہ ناسور اتنا بڑھ چکا ہے اور اس کی ریشو بہت زیادہ ہوگئی ہے اس کی مثبت روک تھام کیلئے کوئی اقدامات تاحال نہیں کیے گئے اور قیمتی جانوں کا ضیاع یوہی ہوتا جارہاہے اور اس بے حس معاشرے کی مثال پوری دنیا میں کہی نہیں ملتی بہت سارے ایسے خاندان جن کے معصوم بچے اس ناسور کا شکار ہیں وہ بہت زیادہ بے بس ہیں فریاد کرے تو کس سے کرے ۔

ہم ایک ایسے انسان کی بات کرتے ہیں جس کی زندگی اس دنیا میں زندہ لاش بن چکی ہے فرضی نام(رخساربی بی )ایک اچھے اور خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئی 2بھائیوں کی ایک بہن جوکہ بہت ہی لاڈلی اور ناز والی تھی رخسار بی بی کی زندگی اسی خوشحال گھرانے میں بسر ہوتی رہی لیکن یہ علم کہا تھا کہ وہ اس دنیا میں جہنم کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوگی اور اس کی امیدیں یوہی ایک پل میں ختم ہوگی یہ معاشرہ بہت ہی ظالم ہے اب رخسار بی بی کی طرح ایسی بہت سی کہانیاں موجود ہے جو دروازے کے اندر ہی بند ہے رخسار بی بی جب اپنی کہانی سنارہی تھی تو اس کے آنسو رکھنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے روتے روتے پھر اپنے بچے کو اپنی گود میں بٹھاکر اس کو بوسہ دیکر ایک ایسا منظر پیش کرتی کہ ہمارے آنکھیں بھی نم ہوجاتی خود کو سنبھال کر اس نے روتے ہوئے لہجے میں کہا کہ ہر لڑکی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا مستقبل اور اس کا گھرانے بہت خوشحال ہوگا اور وہ خوشی خوشی اپنی زندگی بسر کریگی مگر یہ سب اس کے خواہشات اور امیدوں کے برعکس ہوا رخسار بی بی کی شادی ہوجاتی ہے اور اس کی شادی کے فوراً بعد اسے محسوس ہونے لگا کہ شائد یہ اب زندگی خوشحال نہیں بلکہ عذاب بن کر گزرنے والی ہے لیکن پھر بھی وہ گھریلو تشد د اور آزیتیں برداشت کرتی رہی شادی کے کچھ عرصے بعد رخسار بی بی کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوتی ہے وہ انتہائی خوش ہوتی ہے اور یہی سوچھتی ہے کہ شائد اللہ اس کو ایک سہارا دے دیا کہ اس کا بیٹا مستقبل میں اس کا سہارا بنے گالیکن یہ خوشی ملی ہی نہیں کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دے دیتا ہے وہ روتی ہے منت سماجت کرتی ہے لیکن ظالم شوہر نے یہ نہ سوچھا کہ میرے بعد رخسار بی بی اور اس معصوم بچے کا کیا ہوگا مگر انسانیت اور احساس نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ ایسے ہوتا رخسار بی بی بے یار ومددگار اپنے بچے کو لے کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتی ہے اس دوران کبھی وہ اپنے کسی سہیلی اور کبھی کسی سہیلی کے گھر رہتی تھی لیکن کب تک اس قسم کے رواج پالنے کی وجہ سے انہوں نے بھی صاف انکار کردیا کہ معاشرہ کہا سوچھے گا اور معاشرے کی غلیظ باتوں کی وجہ سے رخسار بی بی وہاں سے بھی نکل کر سوچتے ہوئے کہ کوئی ایک ایسا درتو ملے گا جہاں وہ اور اس کا معصوم بچہ رہ سکتا ہے کچھ جمع پونجی ہونے کی وجہ سے رخسار بی بی کو رہنے کی ایک جگہ مل تو گئی لیکن اس کو یہ پتہ نہیں تھا کہ شائد اس کے بعد تو ازیتیں اور بھی ہیں اور اس کی زندگی اس دنیا میں اور بھی آدھی رہ جائے گی رخسار بی بی کی ملاقات اپنے ایک دوست کے ذریعے کسی انجان انسان سے ہوتی ہے اور بعد میں رخسار بی بی اس کی ایک اچھی دوست بن جاتی ہے اور ایک دوسرے کو درد بھر ے انداز میں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے وہ تمام لمحات جو کسی عذاب سے کم نہ تھے سناتے ہیں اس کے بعد وہ دوست اس کو سکون کیلئے ایک ایسی چیز پیش کرتا ہے اور یہ وہی ناسور ہے جس کا ذکر ہم نے ابتداء میں کیا اس ناسور کا نام شیشہ”آئس” ہے جو کہ رفتہ رفتہ انسان کو ہر طور پر مفلوج کردیتا ہے اور کچھ ہی وقت میں انسان مردے کی طرح ایک ڈھانچہ بن جاتا ہے رخسار بی بی نے مجبوراً یہ الفاظ کہتے ہوئے کہاجب میں نے ماضی کی اذیتیں یاد کی اور اس کا استعمال پہلی بار کیا تو مجھے ایسا لگا کہ دنیا میں میرے ساتھ جتنے بھی حادثے ہوئے تھے محسوس ایسا ہورہا تھا کہ کچھ ہوا ہی نہیں اور پل بھر میں وہ سب کچھ ایک دم سے بھول گئی اور یہ سوچھا کہ ضرور اپنا بدلہ لونگی لیکن مجھے قطعناً یہ علم نہیں تھا کہ میری زندگی اور بھی اجیرن ہوجائیگی اور یوں میں یہ لعنت ”آئس” اس سے بھی زیادہ استعمال کرنے لگی اور اگر یہ میں استعمال نہ کرتی تو میرا جسم ایسا تڑپتا جیسے میں مررہی ہوں اور مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ اس پوری دنیا میں کوئی ایسا نہیں جو میری مدد کو آئے اس لعنت”آئس” کے استعمال سے میں آہستہ آہستہ بکھرنے لگی اور میں ماضی بھول چکی تھی لیکن اپنا مستقبل اور اپنے بیٹے کی جان اور خطرے میں ڈال دی اب میرا کوئی ایسا مدد گار نہیں جو مجھے اس لعنت سے نکال دے اور مجھے میری ماضی کی تاریکی سے مستقبل کی تاریکی زیادہ واضح نظرآرہی ہے میرے بس میں کچھ نہیں ہے میں کچھ بھی نہیں کرسکتی اللہ میری طرح کسی کی زندگی ایسی برباد نہ کریں۔

معاشرے میں رخسار جیسی خواتین کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو منشیات جیسے لعنت کاشکار ہوکر اپنی زندگی اور مستقبل کوتباہ کرجاتی ہے منشیات جیسی لعنت سے نہ صرف خواتین بلکہ معاشرے کا ہر فرد متاثر ہوتاہے اس ناسور سے چھٹکارا پانے کیلئے معاشرے کے ہرمکتبہ فکر کو شعور وآگاہی کے ذریعے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک صحت مند و منشیات سے پاک معاشرہ تشکیل دے سکیں

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.