Ultimate magazine theme for WordPress.

محکمہ تعلیم کے سکولوں کی مالی سال2020-21کی ترقیاتی بجٹ کی بلاجواز کٹوتی درحقیقت تعلیمی شعبے کو مزید تنزلی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے، پشتونخواملی عوامی پارٹی

0

کوئٹہ( الجزیرہ ویب ڈیسک), پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں سلیکٹڈ صوبائی حکومت اور اس کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے محکمہ تعلیم کے سکولوں کی کلسٹر بجٹ بلاجواز واپس اور لیپس کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی ہر شعبہ زندگی میں عوام دشمن پالیسیوں اور عوام دشمن اقدامات ہر سطح پر نمایاں ہیں اور اب محکمہ تعلیم کے سکولوں کی مالی سال2020-21کی ترقیاتی بجٹ کی بلاجواز کٹوتی درحقیقت تعلیمی شعبے کو مزید تنزلی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے۔

کیونکہ اس پشتون بلوچ صوبے کے تقریباً سینکڑوں ہائی سکولوں کے ساتھ کلسٹر بجٹ میں ہر ہائی سکول کے ساتھ تقریباً15تک مزید پرائمری اور مڈل سکول شامل ہوتے ہیں اور اس کلسٹر بجٹ کے ذریعے سکولوں کی مرمت ، فرنیچر، پڑھنے پڑھانے سمیت مختلف ضروریات کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے جبکہ کرونا وباء کی باعث سکولوں کی مسلسل بندش کے باعث بھی اس مد میں سکولوں میں کام نہیں ہوا ہے اور اب سکولوں کے کھلنے سے ہی یہ تمام کام ہونا تھا لیکن اس بجٹ کو لیپس کرتے ہوئے ڈی ڈی او سسٹم سے نکالنے کا عمل درحقیقت علم دشمنی اور تعلیم دشمنی پر مبنی ہے اور دوسری طرف ابھی تک سکولوں کو درستی کتابوں کی ترسیل میں ناکامی صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کی نااہلی کو ثابت کرتی ہے اور ساتھ ہی مادری زبانوں کی تعلیم کو ختم کرکے ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے ۔

اور یہ تمام صورتحال اس پشتون بلوچ صوبے کے لاکھوں بچوں اور بچیوں کی تعلیم کی سہولتوں کو شعوری طور پر ختم کرنے کے مترادف ہے جوناقابل برداشت ،قابل افسوس اور قابل گرفت ہے۔ بیان میں علم دوست ، وطن دوست ، عوام دوست جمہوری قوتوںاور طلباء اساتذہ کرام اور سول سوسائٹی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نام نہاد سلیکٹڈ حکومت کے اس تعلیم دشمن اقدام کے خلاف آواز بلند کرے اور سرکاری سکولوں کے غریب طلباء وطالبات کیلئے استعمال ہونیوالی بجٹ کو فوری طو ر پر ریلیز کرنے پر مجبور کرنے میں اپنا کردار ادا کریںاور پرائمری سطح پر مادری زبانوں کی تعلیم جاری رکھنے اور کتابوں کی ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے آواز بلند کریں۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.