کوئٹہ( الجزیرہ ویب ڈیسک), گورنربلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے ماحولیات کا عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ دراصل دنیابھر کے انسانوں کیلئے گلوبل وارننگ ہی ہے سردست تمام ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ ماحول دوست معیشت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے سوچ واپروچ اپنانے کیلئے شعوری کاوشیں کریں. اب بھی وقت ہے کہ ہم قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر فوری اور بروقت اقدامات اٹھائیں ورنہ ماحولیاتی آلودگی تمام بنی نوع انسان کے مستقبل کو کئی خطرات سے دوچار کر سکتی ہے.
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے ہمیں عوام میں درختوں کی اہمیت وافادیت کا احساس جگانا ہوگا کیونکہ ماحولیات کی بحالی میں درختوں کا کلیدی کردار ہے. انہوں نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور انکی مناسب دیکھ بھال سے نہ صرف موسمی بہتری آئیگی بلکہ متعلقہ قومی اور بین الاقوامی اداروں کے محنت و وسائل کو ضائع ہونے سے بھی بچ جائینگے. گورنر یاسین زئی نے کہا کہ ماحولیات کے حوالے سے جنگلات سب سے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں. عموماً ایک ملک میں 25 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے جو کہ اس کے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی ضروریات کو پورا کرے. گورنر یاسین زئی نے کہا کہ پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے قابلِ تقلید اقدامات کئے جنھیں بین الاقوامی سطح بہت سراہا جارہا ہے. اس سال ماحولیات کے عالمی دن کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہے جو پاکستان کی ماحول دوست کاوشوں کا اعتراف ہے. انہوں نے ذرائع ابلاغ سے منسلک تمام افراد پر زور دیا کہ وہ عوام بالخصوص بچوں میں درختوں کی اہمیت و افادیت اور زرخیزی میں اضافہ کا احساس پیدا کریں. گورنر بلوچستان نے کہا پچھلے چند سالوں میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویڑن کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں درخت لگائے جا چکے ہیں جن کے بہت مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں. گورنر بلوچستان نے اس بات پر یقین کا اظہار کیا کہ ملک اور صوبے میں قدرتی ماحول کی بحالی کی مناسبت سے اٹھانے گئے اقدامات سے ہم زیرزمین پانی کی گرتی ہوئی سطح، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیل کے مضر اثرات کو کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔