بیلا(یو این اے)سابق وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ 2008 کے سیاسی حالات اور مخالفت کی وجہ سے میرے والد جام محمد یوسف چار سال کے لئے دبئی چلے گئے تھے دبئی میں ایک ٹاؤن ہاؤس جام محمد یوسف خان مرحوم کی ملکیت تھی انہوں وہاں خود ایک کمپنی بنائی جائیداد خریدی ان دنوں میں لسبیلہ کا ضلعی ناظم تھا آج تک میں نے دبئی میں نہ کوئی کاروبار کیا ہے
اور نہ ہی وہاں سے پیسہ لیا ہے جام محمد یوسف خان دو فروری 2013 کو انتقال کر گئے جس کے بعد دبئی قوانین کے مطابق ان کی جائیداد شرعی طور پر لواحقین میں تقسیم کی گئی انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں جام پلیس شریش پٹ بیلا میں میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پھر دبئی میں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جائیداد لواحقین میں تقسیم ہوئی اس جائیداد کو میں نے اپنے ایف بی آر اور گوشواروں میں ظاہر کرتا آرہا ہوں
اور پیش کردہ کاغذات میں بھی ظاہر کیا گیا، اگر ہمارے مخالفین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میرے اور میرے آبا اجداد کے پاس لسبیلہ ایک ریاست کے طور پر کیسے تھا تو میں وہ بھی وضاحت کرنے کے لئے تیار بلکہ موجود ہوں سابق وزیر اعلی جام کمال خان نے مزید کہا کہ الحمدللہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے سیاستدانوں میں سے ایک ہوں اور میری جائیداد، کاروبار اور اثاثے ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس گوشواروں میں شامل ہیں۔ کوئی کام اور جگہ نہ ہونے کے باوجود مہنگی گاڑیوں اور پرتعش طرز زندگی گزارنے والوں پر مجھے حیرانگی ہے۔