Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the publisher domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/ustaman/domains/dailyaljazeeraqta.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پنجاب پولیس کا بلوچ اسٹوڈنٹس کمیٹی کے کتاب اسٹال پر دھاوا، سات افراد کی گرفتاری۔ – Daily Aljazeera Quetta
Deprecated: Function WP_Dependencies->add_data() was called with an argument that is deprecated since version 6.9.0! IE conditional comments are ignored by all supported browsers. in /home/ustaman/domains/dailyaljazeeraqta.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Deprecated: Function WP_Dependencies->add_data() was called with an argument that is deprecated since version 6.9.0! IE conditional comments are ignored by all supported browsers. in /home/ustaman/domains/dailyaljazeeraqta.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
Ultimate magazine theme for WordPress.

پنجاب پولیس کا بلوچ اسٹوڈنٹس کمیٹی کے کتاب اسٹال پر دھاوا، سات افراد کی گرفتاری۔

0

الجزیرہ ویب ڈیسک

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے داجل میں منعقد کتاب اسٹال پر پنجاب پولیس نے دھاوا بول کر اسٹال پر توڑ پھوڑ کرکے زبردستی ختم کروادیا اور تنظیم کے سات ساتھیوں کو زبردستی گرفتار کرکے تھانے میں منتقل کردیا۔
آئے روز ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف اور راجن پور سمیت گردونواح میں جاری تعلیمی و علمی سرگرمیوں پر پولیس کا مسلسل دھاوا بول کر غنڈہ گردی کرکے طالبعلموں و سیاسی کارکنان کو ہراساں کرنا معمول بن چکی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
جہاں ہم علمی و تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد کرکے ملک میں جاری تعلمی بحران کو درست کرنے کی جدوجہد میں ہیں تو دوسری جانب حکومت و حکومتی ادارے تعلیم دشمنی پر اتر آئے ہیں اور ایسی مثبت سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش میں ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ بجائے اس کے کہ حکومتی ادارے ایسی تعلیم دوست سرگرمیوں کو سراہ کر طالبعلموں کی حوصلہ افزائی کرے مگر پولیس کتب اسٹال لگانے کے پاداش میں طالبعلموں کو جیلوں میں بند کررہاہے۔ پہلے گوادر میں ہمارے چار ساتھیوں کو غیرقانونی گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹا گیا جبکہ اب داجل میں جاری کتب اسٹال پر دھاوا بول کر سات ساتھیوں کو زبردستی گرفتار کرکے تھانا منتقل کیا گیا۔
ہم ایک بار پھر حکومتی و مقتدرہ قوتوں کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایسی تعلیم دشمن اقدام کو ترک کریں وگرنہ اس کے خلاف ہماری مزاحمت سخت سے سخت ہوگا۔ دوسری جانب ہم تمام تعلیمی و انسانی حقوق کے تنظیموں سمیت صحافی برادران و دیگر سماجی کارکنان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس تعلیم دشمن و پولیس کی جارحانہ رویوں کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.