ایم پی اے واشک اپنے سیاست چمکھانے کیلئے اسمبلی فلور پر بلوچستان کے ملازمین کیلئے قمیص اتارتے ہے مگر انکے اپنے حلقے کے لوگ ذلیل ہیں ، پریس کانفرنس
بسیمہ ( الجزیرہ ویب ڈیسک) ساجد کے نوجوان عطاء الرحمان سمالانی محمد اسلم سمالانی ودیگر نوجوانوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم ایک ایسے بدقسمت علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جو اس جدید دور میں بھی زندگی کی تمام تر سہولیات سے یکسر محروم ہے پانی,صحت ,بجلی ,تعلیم اور روڑ کا نہ ہونا اس جدید دور میں حکمرانوں کی منہ پر طمانچہ ہےساجد بسیمہ کا ایک دیہاتی علاقہ ہے جسکی آبادی کم ازکم 12 سے 13 ہزار لوگوں پر مشتمل ہے صحت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پورا علاقہ جو کہ 18 بستیوں پر مشتمل ہے جس میں ایک صحت کی بنیادی مرکز نہیں ہے پورے ساجد میں BHU کی ایک بلڈنگ ہے وہ بھی آج سے تقریباً 25 سال پہلے تعمیر کی گئی ہے جو آج تک فعال نہ ہوسکا پچھلے نماہندوں کی طرح موجودہ نماہندوں نے ساجد کی مظلوم عوام کو مزید پسماندہ رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے روڑ کی حالت زار کچھ اس طرح
ہے کہ مریض تو مریض ہے ایک تندرست انسان اس پر سفر کر کے مریض ہو جاتے ہے
اس جدید دور میں اس بدقسمت علاقے کے ایسے مکین بھی ہے جو کئی کلو میٹرز تک پانی کی دستیابی کیلئے سفر طے کرتے ہیں اور تعلیمی حوالے سے دیکھا جائے تو اس 13 ہزار کی آبادی پر مشتمل علاقے میں ایک مڈل سکول ہے جسکی نہ اسٹاف مکمل ہے اور نہ محفوظ عمارت ہے ہم مسلسل موجودہ نماہندوں کو اپنے اس حال بد کو سنانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یہاں پر نماہندے اپنے بینک بیلنس کو بڑانے میں لگے رہتے ہیں انہیں عوامی معملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے موجودہ ایم پی اے صاحب اپنے سیاست کو چمکھانے کیلئے اسمبلی فلور پر بلوچستان کے ملازمین کیلے قمیص اتار تے ہے اور احتجاج تو کرتے ہے لیکن موصوف خود اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصر ہے اور ایم این اے صاحب بلکل خاموشی کی روزہ رکھا ہے اپنے مراعات حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے
موصوفوں کو نہ عوام دوستی ہے اور نہ ہی اپنے آپکو عوامی نماہندے سمجھ تھی ہیں ہم حکومت بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہونے والے نا انصافیوں کا ازالہ کیا جاہے اور ہمیں مزید پسماندگی کی زندگی سے بچائے اور آخر میں ہم موجودہ نماہندوں کو ایک بار پھر کہنا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے نہیں تو ہم ورنہ احتجاج کو مزید وسیع کرکے صوبائی دارالحکومت میں دھرنا دینگے
ہم اس طرح کسی بھی فنڈز کی غیرمنصفانہ تقسیم کو قبول نہیں کرتے ہیں ایسے ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہینگے ۔