ویب ڈیسک کے مطابق کلی کربلا میں قبرستان کی زمین پر تعمیرات روک کر مردوں کیلئے وقف آراضی پر قبضہ کرنیوالوں کے خلاف کاروائی کیجائیں، قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کی عدم صورت علاقے میں قبائیلی تصادم کا خطرہ پیدا ہوا ہے،
ان خیالات کا اظہار کلی کربلا کے رہائشی مختلف قبائیلی رہنماوں حاجی عبدالمناف کاکڑ، ملک محمد رمضان، حاجی نیک محمد، محبوب خان نے علاقے کے دیگر قبائیلی معتبرین اور عمائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ کلی کربلا ایک پرامن علاقہ ہے، یہاں کے مختلف قبائیل سید، کاکڑ، لودین اور داوی صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کے طور پر زندگی بسر کررہے ہیں، لیکن بعض عناصر کو کلی کربلا کا امن اور یہاں آباد قبائیل کا بھائی چارہ اور باہمی اتحاد اور اتفاق ہضم نہیں ہورہاہے،
اور آئے دن علاقے میں مختلف آقوام کے آراضیات کو قبضہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان بااثر قبضہ مافیا نے قبرستان کے مردوں کو بھی نہ بخشتے ہوئے علاقے کی قبرستان کی اراضی پر قبضہ کر کے تعمیرات کر لی ہیں، محلہ بیان زئی کے قبرستان میں تعمیرات سے علاقے میں آباد قبائیل اور قبضہ مافیا کے درمیان قبائیلی تصادم کا خدشہ پیدا ہوگیاہے، انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بارہاں مقامی انتظامیہ کو مطلع کرتے ہوئے معاملہ تمام حکام کے نوٹس میں لایا گیا ہے،
لیکن بااثر قبضہ مافیا جنہیں مختلف عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے نے اس کے باوجود غیرقانونی تعمیرات کی کوششیں شروع کررکھی ہیں، جو ایک قابل گرفت عمل ہے،انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن سے مطالبہ کیا کلی کربلا محلہ بیان زئی کے قبرستان پر تعمیرات کا نوٹس لیکر ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کیجائے اور عوام کو قبضہ مافیا سے نجات دلاکر علاقے میں قبائیلی تصادم کے خطرات کا راستہ روکا جائے۔