Ultimate magazine theme for WordPress.

کیچی بیگ سانحہ:PDMA کے جدید آلات سے لیس اہلکار بے بس ہوئے وہاں ایک عام شہری نے کام کر دکھایا،غلام نبی مری

کچرہ کی وجہ سے گیس بھرنے جانے کو اپنے اپنے ناکامی کا سبب کہتے رہے لیکن کچھ نہ کر سکے

0

کوئٹہ(آن لائن:الجزیرہ ویب ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر وضلعی صدرکوئٹہ غلام نبی مری۔ ضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو۔ سنیئر نائب صدر ملک محی الدین لہڑی۔ نائب صدر ایڈوکیٹ طاہر شاہوانی۔ ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی۔ جوائنٹ سیکرٹری اسماعیل کرد۔ انفارمیشن سیکرٹری نسیم جاوید ہزارہ۔ فنانس سیکرٹری میر اکرم بنگلزئی۔ خواتین سیکرٹری منورہ سلطانہ سمالانی۔ کسان ماہیگیر سیکرٹری ملک ابراہیم پرکانی۔لیبر سیکرٹری عطااللہ کاکڑ۔ ہیومن رائٹس سیکرٹری پرنس رزاق بلوچ اور پروفیشنل سیکرٹری میر غلام مصطفے سمالانی نے اپنے مشترکہ بیان میں کوئٹہ کے علاقہ کیچی بیگ سانحہ پر حیرت کی اظہار کرتے ہوئے

کہاں کہ جہاں سرکاری تنخواہ لینے والے تربیت یافتہ، جدید آلات سے لیس اہلکار بے بس ہوئے وہاں ایک عام شہری نے کام کر دکھایاواضح رہے کہ گزشتہ دن 12بجے سے لے کر رات 12بجے تک کیچی بیگ کے پرانے کاریز کے کنوے سے دو افراد کو نکالنے کے لیے محکمہ PDMAاور محکمہ مائنز کے تربیت یافتہ، تنخواہ خور اہلکار جدید آلات، آکسیجن سیلنڈر، ماسک، ایلمٹ، دستانے، کیمرے، ٹارچ وغیرہ وغیرہ سے لیس ہو کر بار بار کنوے میں اترتے اور نکلتے رہے

اور کچرہ کی وجہ سے گیس بھرنے جانے کو اپنے اپنے ناکامی کا سبب کہتے رہے لیکن کچھ نہ کر سکے۔ اس حادثہ کے بارے میں سن کر ذیل دو نوجوان کھڈ کوچہ سے موٹرسائیکل پر رات 12بجے پہنچ گئے۔1۔ جلیل احمد ولد محمد ابراہیم2۔ امیر حمزہ اقوام شاہوانی ساکنان مل خرما لکی باران کھڈ کوچہ ضلع مستونگ جن میں سے جلیل احمد شاہوانی ایک سادہ سرجیکل ماسک کے ساتھ، رسی سے لٹک کے اپنے جان پر کھیل کر گیس سے بھرے کاریز کے کنوے میں اتر گیا اور محض ایک انٹرکام فون کے ذریعے اپنے ساتھی سے رابطہ کرتا رہا اور 2گھنٹے کے اندر اندر پھنسے ہوئے نڈر نوجوان شہید بالاچ نوشیروانی اور بچہ کے لاشیں نکالنے میں کامیاب ہوا۔

آفرین ہے اس نوجوان پر کہ اپنے زندگی کو داو پر لگا کر کاریز کے کنوے کے اندر 35/40فٹ لمبی کینال/لمبور میں رینگتے ہوئے گیا اور باری باری لاشوں کو کھینچتے ہوئے کنوے تک لایا اور رسی سے باندھ کر نکالنے میں کامیاب ہوا۔ اگر بروقت ان کو منگوا کر کام لیا جاتا تو قوی امکان تھا کہ کاریز کے کنوے میں گرے دونوں افراد بچ سکتے تھے۔ ایک تو کچرہ کی وجہ سے گیس بھر جانا اور دوسری حالیہ شدید بارشوں سے کاریز کے اندر مٹی کے تودے گرنے کا شدید خطرہ لاحق تھا لیکن اس کے باوجود نوجوان نے جان پر کھیل کر وہ کام کیا جو سرکاری مشینری سے لیس اہلکار بھی نہ کر سکے۔

انہوں نے وزیراعلی بلوچستان، وزیر داخلہ بلوچستان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان، IGبلوچستان پولیس، ڈی جی PDMA,ڈی جی مائنز، کمشنر و ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے پر زور اپیل ہے کہ نہ صرف یہ دونوں نوجوان انعام اور حوصلہ افزائی بلکہ محکمہ PDMAمیں نوکری کے حقدار ہیں کیونکہ مستقبل میں ایسے ہنگامی صورتحال میں ان کے صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جس طرح قمبرانی روڈ پر آگ لگی آئل ٹینکر کو آبادی سے نکالنے پر ڈرائیور کی حوصلہ افزائی کی گئی اسی طرح ان دونوں نوجوانوں کی بھی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ضرورت ہے انہوں نے ان دونوں نوجوانوں کے بہادری، ہمت، دلیری کو خوب سراہا ہے

اور جام شہادت نوش کرنے والے شہید بالاچ نوشیروانی اور کنوویں میں جان بحق ہونے والے بچہ کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی اللہ پاک ان کی درجات بلند کرکے جنت الفردوس میں جگہ دے پسماندگان کو صبر و جمیل عطا فرمائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے لواحقین کے لیئے بھی معاوضہ کا اعلان کرے۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.