Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the publisher domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/ustaman/domains/dailyaljazeeraqta.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
زندگی ایک ایسے خاندان میں گزارے جہاں ان کے مرضی اور منشاہ کے بغیر نکاح کرایا جا ئے زندگی ایک ایسے خاندان میں گزارے جہاں ان کے مرضی اور منشاہ کے بغیر نکاح کرایا جا ئے – Daily Aljazeera Quetta
Deprecated: Function WP_Dependencies->add_data() was called with an argument that is deprecated since version 6.9.0! IE conditional comments are ignored by all supported browsers. in /home/ustaman/domains/dailyaljazeeraqta.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Deprecated: Function WP_Dependencies->add_data() was called with an argument that is deprecated since version 6.9.0! IE conditional comments are ignored by all supported browsers. in /home/ustaman/domains/dailyaljazeeraqta.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
Ultimate magazine theme for WordPress.

زندگی ایک ایسے خاندان میں گزارے جہاں ان کے مرضی اور منشاہ کے بغیر نکاح کرایا جا ئے زندگی ایک ایسے خاندان میں گزارے جہاں ان کے مرضی اور منشاہ کے بغیر نکاح کرایا جا ئے

0
تحریر محمد آصف

 

بلو چستان میں قبائلی جھگڑوں کے تصفیے میں خون بہا کے طور پر خواتین کی جبری شادیوں اور دیگر تصفیوں میں خواتین کے استعمال میں خاطر خواہ کمی آئی ہے حکومتی اقدامات، عورت فاونڈیشن، کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن، سمیت دیگر سماجی شعبوں میں کام کرنے والے تنظمیوں کی کاوشوں کی بدولت اس حساس نوعیت کے معاملات میں کمی دیکھنے میں آئی، خواتین کی حقوق پر کام کرنے والی ثنادرانی نے بتایا کہ بلو چستان میں خواتین اور بچیوں کومختلف طریقوں سے استعصال کیا جا تا ہے اب وقت آچکا ہے کہ یہ پرانی روایات کا خاتمہ کیا جا ئے انہوں نے کہا کہ آٹھ مہینے قبل پشتون قبائل کے نواب ایاز جو گیز ئی نے ایک جر گہ منعقد کیا تھا جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا آئندہ کسی لڑائی اور جھگڑے میں کسی پشتون خاتون کو نہیں گھسیٹا جا ئے گا اور نہ ہی کسی بچی اور خاتون کو خون بہا میں دیا جا ئے گا،

میں سمجھتا ہوں یہ حوصلہ افزا بات ہے صو بے دیگر علا قوں میں بھی سیاسی جماعتوں اور قبائلی رہنماوں اپنا بھرپورکردار ادا کر نا چاہے انہوں نے ضلع نصیر اور جعفر کی مثال دیتے ہو ئے بتایا وہاں بڑے بڑے جہاگیردار عام کسانوں کو سود پر پیسے دیئے جا تے ہیں اور جب یہ سود ادا نہیں کر پاتے تو اس کے بدلے ان کے خواتین اوربچو ں اور بچیوں سے جبررا مشقت سے کام کروائی جا تی ہے،جو اس اکیسویں صدری میں نہیں ہونا چاہے جب سود کے پیسے ڈبل ہو جاتے یا وہ یہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہو تے ہیں تو ان کی پوری خاندان کو ان جاگیر دار کا غلام بنایا جا تاہے جب تک یہ پیسے ختم نہیں ہوتے ہیں ان سے کھیتوں،اور گھروں میں کام کرنا پڑتا ہے

بلوچستان ہائیکورٹ کے وکیل محمد امین مگسی نے خواتین کو خون بہایا فرسودہ روایات بچیوں کو ونی دینے حوالے سے کہناتھا کہ پاکستان میں اس طرح کے خواتین اور بچیوں کا استعصال قانون جرم ہے آئین تمام لو گوں کی حقوق برابر ہے وہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے بلو چستان بعض علا قوں میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اگر کسی قبائل کے دوسرے قبائل کے ساتھ کو ئی لڑائی یا جھگڑا ہوتا ہے تو اس میں خواتین اور بچیوں کا کیا قصور ہے وہ اپنی پوری زندگی ایک ایسے خاندان میں گزارے جہاں ان کے مرضی اور منشاہ کے بغیر نکاح کرایا جا ئے

اس طرح کے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں اسلامی حوالے سے بھی یہ غیر شرحی فعل ہے اور آئین میں بھی جرم ہے انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ایک آرڈینیس پاس کی ہے پندرہ سال کی کم عمر لڑکی کی شادی جرم ہے جو کہ ایک مثبت اور خوش آئند اقدام ہے

کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کے سماجی کارکن اشفاق مینگل کے مطابق ماضی میں اس طرح کیسز رپورٹ ہو ئیں ہیں لیکن حال ہی میں صو بے میں اس طرح کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان معاملے پر قبائلی عمائدین اور سرداروں سے میٹنگ بھی کی ہے

قلعہ سیف اللہ میں نواب ایاز جو گیز ئی کے فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے اب تمام لو گ اس نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں انہوں نے دالبندین میں نوتیز ی قبائل کے ایک جرگے کی مثال دیتے ہو ئے بتایا کہ وہاں سردار آصف شیر جمالدینی کی موجود گی میں فیصلہ ہوا کہ خون بہا میں خواتین اور بچیوں کو ونی نہیں کیا جا ئے گا جو کہ مثبت عمل ہے
انہوں نے بتایا اب اگلے مرحلے میں ہم دیگر سرداروں سے ملے گے تا کہ یہ پرانی فرسودہ نظام کا بلو چستان سے مکمل خاتمہ ہو

خواتین اور بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ریجنل ڈائریکٹر عورت فانڈیشن علاالدین نت بتایا کہ قلعہ سیف اللہ میں نواب ایاز جو گیز ئی کا پروگرام ہم نے ترتیب دیا جس کے بعد تمام مکتبہ فکر کے لو گوں کی جانب سے مثبت رد عمل آیا ہے
انہوں نے بتایا شعور اور آگائی میں کمی کی وجہ سے پہلے صوبے کے دوردراز علا قوں میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ یہ سلسلہ چلتا رہا ہے اب ہماری کوشش ہے ہم ان معاملات میں سیاسی پارٹیوں کے رہنما،اور قبائلی عمائدین اور سرداروں کو بھی آن بورڈ لینگے امید ہے مثبت نتائج بر آمد ہونگے

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.