Ultimate magazine theme for WordPress.

مڈل ایسٹ لوگ سیکھنے آتے تھے،ہماری مثال دی جاتی تھی،وزیراعظم

0

وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کے آغاز میں کہا کہ میں نے قوم کے مستقبل پر اہم بات کرنی ہے اسی لیے فیصلہ کیا کہ براہ راست بات کی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمارے سامنے دو راستے ہیں، اور ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون سا راستہ لینا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے پہلے وہ قوم سے دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو سیاست میں آنے سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن میرے پاس شہرت، پیسہ، سب کچھ تھا، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان مجھ سے صرف پانچ سال بڑا ہے۔ ’میرے ماں باپ انگریز کے دور میں پیدا ہوئے تھے، مجھے وہ کہتے تھے تم خوش قسمت ہو کہ آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو۔‘

وزیرِ اعظم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ایک بات کہی کہ میں کسی خود جھکوں گا نا قوم کو کسی کی غلامی کرنے دوں گا۔ جب مجھے اقتدار ملا تو فیصلہ کیا کہ آزاد خارجہ پالیسی ہو گی، ہمارے مفادات کے لیے ہو گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کے خلاف ہوں گے، یا اینٹی امریکہ یا اینٹی انڈیا ہوں گے۔

گیارہ ستمبر کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت پر اُنھوں نے کہا کہ میں پرویز مشرف کے دور میں اسی کمرے میں ایک میٹنگ میں ساری پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ تھا جب کہا گیا کہ اگر امریکہ کی حمایت نہیں کی تو وہ غصے میں ہمیں نا مار دے۔ میں نے بار بار کہا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.