بلوچستان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدے داروں کی کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس
آج ہم عدالت سے ضمانت لے کر آئے ہیں،9 فروری کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات ہوئے تھے،مذاکرات کے بعد میڈیا کے سامنے وزیر صحت نے اعتراف کیا تھا تمام مطالبات جائز ہیں،وزیر صحت نے کہا اسپتالوں کو سہولیات کی فراہمی کی وائے ڈی اے کے مطالبات ہیں،وزیر صحت نے کہا تھا 3 روز میں نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا،۔مذاکرات کے بعد ہم وزیر صحت کے پیچھے بھاگتے رہے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، ہمیں گرفتار کرنا ہے گرفتار کرلیں، ہ ڈی سی کے کہنے پر علاقے کی بجلی بند کر کے گرفتار کیا گیا،ڈی سی کا تعلق صوبے سے نہیں انہیں یہاں کی روایات نہیں معلوم ، ڈی سی کی سربراہی میں سول اسپتال میں احتجاجی کیمپ پر پولیس نے دھاوا بولا،لائبریری میں جاکر لیڈی ڈاکٹرز کے موبائل چھینے گئے،ایم ایس سول ہسپتال پر دباؤ ڈالا گیا ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے،ایم ایس کی اجازت کے بغیر پولیس سول اسپتال میں داخل ہوئی،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے سول اسپتال کی تمام فوٹیج ڈیلیٹ کردی، ریڈ زون سے گرفتار ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر میں دیگر کو بھی شامل کیا گیا، ہماری تحریک جاری یے چیف سیکرٹری کہتا ہے ہم نے نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں،چیف سیکرٹری صاحب ہم اندھے نہیں ہیں، وزیر اعلیٰ نے اسپتالوں کے لیے دستیاب مشینری کے لیے 7 ارب روپے رکھے، ایم ایس سول ہسپتال کے خلاف انتقامی کاروائی کی گئی، سیکرٹری صحت اتنے قابل ہوتے تو ہمارے ہسپتال دیگر صوبوں کے مقابلے میں ہوتے،تمام سروسز کا بائیکاٹ جاری رہے گا،بی ایم سی میں منصوبے کے تحت ینگ ڈاکٹرز کو مشتعل کیا گیا،