کوئٹہ(این این آئی;الجزیرہ ویب ڈیسک)بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بارشوں کاسلسلہ جا ری رہا، کوئٹہ میں اوڑک اور کرخسہ ندیوں میں آنے والے سیلابی ریلوں نے شہر کے مختلف علاقوں تباہی مچا دی،سیلابی پانی کوئٹہ ائیرپورٹ کے قریبی علاقے تک پہنچ گیا،صوبے میں مواصلاتی نظام معطل ہونے سے شہریوں کی مشکلات بڑھ گئیں
کوئٹہ کا زمینی رابطے بدستور ملک کے دیگر حصوں سے ریلل اور روڈز کے زریعہ معطل رہا۔وادی کوئٹہ میں چوبیس گھنٹوں کے دوران 86ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی، مسلسل کئی گھنٹوں کی بارش نے شہر میں نظام زندگی درہم برہم کردی،کوئٹہ کی اوڑک ندی کا پانی،کلی ناصران،نواکلی،ائیرپورٹ روڈ تک پہنچ گیا
جس سے کئی کچے مکانات گرگئے، ان علاقون میں پھنسے پانچ سو کے لگ بھگ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل گیا،سیلابی پانی کوئٹہ ائیرپورٹ تک جا پہنچا اور ایئر پورٹ کے قریبی علاقوں کو نقصان پہنچا، کرخسہ ندی کے سیلابی پانی نے بروری،ہزارہ ٹاون،فیصل ٹاون،اے ون سٹی اور دیگر علاقوں میں مکانات کو نقصان پہنچایا،لوگ اپنی مدد اپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے
مسلسل بارش نے سریاب کے مختلف علاقوں میں بھی تباہی مچائی، ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ بارش سے تین افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس،لائن لینڈ فون اور انٹر نیت سروس تقریبا سار اد ن بند رہنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،سوئی گیس پائپ لائنیں بہہ جانے کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے کے چھ اضلاع میں سوئی گیس کی فراہمی بند ہے
کوئٹہ انے والی بجلی کی دو ٹرانسمیشن لائنیں بند ہونے سے صوبے میں بجلی کا شدید بحران ہے،پشین کے علاقے یارو کے کی کلی میسترزی میں سیلابی ریلے میں ڈوبنے والے تین افراد کو ریسکیو کرکے بچا لیا گیا۔