ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار کے اعزاز میں اظہارِ تشکر کا عوامی پروگرام، بلوچستان کے حقوق، جمہوری آزادیوں اور محکوم اقوام کے حقوق کے تحفظ پر زور
کوئٹہ: ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار کی رہائی کے سلسلے میں پڑنگ آباد ہاؤس، سبزل روڈ کوئٹہ میں عوامی پروگرام برائے اظہارِ تشکر کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی و قومی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام میں نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر چیئرمین اسلم بلوچ، ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار، ملک خالد دہوار، رئیس خلیل دہوار، ملک منیب جان دہوار، چیئرمین میر آصف دہوار، ملک رشید دہوار، میر باقی ملازئی، رئیس غلام محمد دہوار، ملک بشیر دہوار، ملک ثقلین دہوار سمیت نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار نے اپنی گرفتاری کے دوران اظہارِ یکجہتی کرنے والے تمام افراد، بلوچ قومی و سیاسی رہنماؤں، وکلا، ڈاکٹرز، سول سوسائٹی، نوجوانوں، خواتین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری کے موقع پر بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں اور بین الاقوامی سطح پر جس انداز میں یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ان کے حق میں آواز بلند کی گئی، وہ ان کے لیے باعثِ اعزاز اور حوصلہ افزائی ہے۔
ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار نے سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ساتھ دینے والی شخصیات ہی انسانی ہمدردی، اصولی مؤقف اور حقیقی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے ان کی گرفتاری کے پہلے روز سے رہائی تک جس ثابت قدمی، خلوص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ان کا ساتھ دیا، وہ ان کے لیے باعثِ حوصلہ اور قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر لشکری رئیسانی نے نہ صرف اس مشکل مرحلے میں ان کی حمایت کی بلکہ اپنی قانونی ٹیم کے ذریعے قانونی معاونت کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار نے کہا کہ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی جانب سے مشکل وقت میں جس طرح ساتھ نبھایا گیا، وہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والی شخصیات حالات کی سختی کے باوجود انسانی ہمدردی، انصاف اور جمہوری اقدار کو اہمیت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کے لیے آزمائش کی گھڑی میں حوصلہ افزائی، اخلاقی حمایت اور قانونی تعاون بہت بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ وہ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی اس معاونت، خلوص اور یکجہتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور دل کی گہرائیوں سے ان کی شکر گزار ہیں
ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار نے کہا کہ ان کی گرفتاری کے بعد بلوچ، پشتون، ہزارہ، سرائیکی اور سندھی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک سے اٹھنے والی آوازوں نے ثابت کیا کہ انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور انصاف کا مطالبہ کسی ایک فرد یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ تمام انسانوں کا مشترکہ حق ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے اپنے بنیادی حقوق، سیاسی و جمہوری آزادیوں، معاشی وسائل پر اختیاراور باعزت زندگی کے حصول کے لیے آواز بلند کرتے آ رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، شہریوں کو اپنی بات کہنے کا حق دینا اور ان کے جائز مطالبات کو سننا جمہوری نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بلوچ قوم سمیت تمام محکوم اور محروم اقوام کے حقوق کا تحفظ، ان کی شناخت، زبان، ثقافت اور وسائل کے احترام کے بغیر ایک منصفانہ اور مضبوط معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی آواز کو سننا اور ان کے مسائل کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل، سیاسی بے چینی اور حقوق سے متعلق تحفظات کا حل مکالمے، انصاف، آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو دیوار سے لگانے کے بجائے انہیں سنا جانا چاہیے، کیونکہ ایک مہذب معاشرے میں تنقید اور سوال اٹھانے کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان سے اپنے مقدمات کے حوالے سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی عوام کی خدمت کے لیے وقف کی۔ بطور ڈاکٹر انہوں نے مریضوں کی خدمت کی، جبکہ بطور پولیس سرجن ریاستی اداروں کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2026 میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مختلف مقدمات میں پولیس کی معاونت کرتی رہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف بغاوت اور غداری کے مقدمات قائم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف قائم مقدمات نے ان کے لیے کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ اگر عوام کی خدمت، اپنے لوگوں کے مسائل بیان کرنا اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا غداری کے زمرے میں آتا ہے تو وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار نے اپنی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے عوام تک اپنی آواز پہنچانا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا ان کا جمہوری حق تھا، لیکن اسی پریس کانفرنس کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ ان کے مطابق جمہوری معاشرے میں شہریوں کو پُرامن انداز میں اپنی رائے پیش کرنے اور عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ آزادیٔ اظہار پر قدغنیں معاشرے میں خوف اور بے اعتمادی کو جنم دیتی ہیں، جبکہ آزادانہ مکالمہ قومی مسائل کے حل کی راہ ہموار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی رہائی صرف ایک فرد کی رہائی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام ہے جو آئینی، جمہوری اور انسانی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی خدمت، انسانی وقار، انصاف اور اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کے عوام کو فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دی جائے،قومی یکجہتی طاقت کے استعمال یا اختلافی آوازوں کو دبانے سے نہیں بلکہ اعتماد، انصاف، برابری اور باہمی احترام سے مضبوط ہوتی ہے۔پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے ڈاکٹر عائشہ فیض دہوار کی رہائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں انصاف، انسانی وقار، جمہوری اقدار اور تمام اقوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
