کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ مسلح تحریک ابتدا میں مقامی نوعیت کی تھی، تاہم وقت کے ساتھ اس میں عالمی طاقتیں بھی شامل ہوچکی ہیں، کیونکہ بلوچستان کے قدرتی وسائل میں بیرونی قوتوں کی دلچسپی موجود ہے۔
صحافی میروائس مشوانی کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ ان کی حکومت کے دور میں جلاوطن بلوچ رہنماؤں، جن میں براہمدغ بگٹی اور خان آف قلات شامل تھے، کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ ان کے بقول اس عمل میں 60 سے 70 فیصد تک پیش رفت ہوچکی تھی، تاہم بعض قوتوں کی مداخلت اور بعد میں آنے والی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔
موجودہ صورتحال کے حوالے سے ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں مذاکرات کے لیے ماحول سازگار نہیں، کیونکہ نہ مسلح عناصر اور نہ ہی دیگر متعلقہ ادارے مذاکرات کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں۔
نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فی الحال اس معاملے کو نہیں چھیڑا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے محض انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ قومی اور وفاقی اکائیاں ہیں، اس لیے نئی صوبائی ترتیب تاریخی اور ثقافتی تناظر میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی کوشش کی گئی تو سیاسی اور پارلیمانی سطح پر اس کی مخالفت کی جائے گی۔
بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل سے متعلق ڈاکٹر مالک بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو 17 نکات پر مشتمل ایک تجویزی فارمولا پیش کیا ہے، جس میں لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشوں کے واقعات، بے روزگاری اور دیگر اہم مسائل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی توجہ بلوچستان کے عوام کے بجائے زیادہ تر صوبے کے وسائل پر مرکوز رہتی ہے، جس کے باعث مسائل اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
سیاسی اتحاد کی کوششوں کے بارے میں ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے تحت ایک مشاورتی اجلاس بھی بلایا گیا تھا۔

