اختر مینگل کی سربراہی میں بلوچ لاپتہ افرادکے بارے کمیشن کا جامعہ بلوچستان کا دورہ،امید ہے کہ ہم اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے پہلا قدم ثابت ہونگے۔ کمیشن
اختر مینگل,خاموش رہنے سے معاشرے میں پائے جانے والے خرابیوں کو دور یا ختم نہیں کیا جاسکتا
کوئٹہ(پ ر)بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبا کی شکایات کا جائزہ لینے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں قائم کردہ کمیشن نے یونیورسٹی آف بلوچستان کا دورہ کیا۔

اس موقع پر طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے کنوینئر سردار اختر مینگل نے کہا کہ خاموش رہنے سے معاشرے میں پائے جانے والے خرابیوں کو دور یا ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اپنے حق اور معاشرے کے گند کو صاف کرنے کے لئے تگ ودواور بولنا پڑتا ہے تب جاکر معاشرے میں سدھار آجاتاہے۔
رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد اور بلوچستان کے طلباء کی اس سنگین مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کمیشن کو ستمبر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی احکامات کی روشنی میں قائم کیا گیا اور اسکے اب تک 7 اجلاس منعقد ہوئے اور گزشتہ روز سے یہ کمیشن بلوچستان کے دورے پر ہے۔

یہ کمیشن مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملکر حقائق پر مبنی رپورٹ مرتب کرکے اسلام آباد ہائیکورٹ کو پیش کریں گے۔اور امید ہے کہ ہم اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے پہلا قدم ثابت ہونگے۔اس موقع پر سینٹر کامران مرتضی ایڈوکیٹ، افراسیاب خٹک اور کمیشن کے دیگر ممبران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے شکایات و معلومات فراہم کی اور ان کی تدارک کے لئے اپنے تجاویز بھی پیش کی۔

قبل ازیں یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر نے کمیشن کے ممبران کو خوش آمدید کہا اور یونیورسٹی کی کارکردگی کے بارے میں مختصر بریفنگ دی۔