ایک ایسا گھر جسے بنانے میں اسے بیس سال لگ گئے لیکن منہدم ہونے میں صرف چند منٹ
ایک ایسا گھر جسے بنانے میں اسے بیس سال لگ گئے لیکن منہدم ہونے میں صرف چند منٹ
میروائس مشوانی
حالیہ مون سون کی بارشوں سے
بلوچستان کے 34 اضلاع میں سے مجموعی طور پر 26 اضلاع طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
بعض اضلاع جزوی طور پر جبکہ باز اضلاع زیادہ متاثر ہوئے جن میں لسبیلہ، جھل مگسی، کچھی، نوشکی، پنجگور، قلات، کوئٹہ، پشین اور قلعہ سیف اللہ شامل ہیں۔
صوبہ کی دیگر اضلاع کی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی حالیہ دنوں ہونے والی بارشوں سے متاثر ہوا جہاں اکثر گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
عبدالمطلب کا گھر اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایک ایسا گھر جسے بنانے میں اسے بیس سال لگ گئے لیکن منہدم ہونے میں صرف چند منٹ۔
عبدالمطلب کوئٹہ شہر سے 70 کلومیٹر دوری پر واقع کوئٹہ کی سب تحصیل ہے ہنچپائی کے گاوں کے رہائشی ہیں۔ مون سون کی تیز بارشوں ییاں متعدد گھر منہدم ہوئے ہیں ہیں جن میں عبدالمطلب کا گھر بھی شامل ہے۔
عبدالمطلب نے بتاتے ہیں کہ جب تیز بارش شروع ہوئی تووہ گھر میں ہی موجود تھے۔ تیزبارش شروع ہوئی تو چاروں اطراف سے پانی ان کے گھر میں میں داخل ہونا شروع ہوا۔ ” مجھے اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ میرا گھر تباہ ہو جائے گا۔ میں نے اتنی تیز بارش پہلے کبھی نہیں دیکھی۔”
بچوں کو باہر نکالتے تو ژالہ باری سے زخمی ہونے کا خطرہ تھا جبکہ گھر کے منہدم ہونے کا خطرہ بھی درپیش تھا۔
“ہم نے گھر سے نکل کر مسجد میں پناہ لی چند لمحوں بعد بارش کا سلسلہ تھما تو گھر واپس آکر دیکھا تو مکمل منہدم تھا۔
پی ڈی ایم اے کے رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے بلوچستان میں 170 افراد جانبحق ہو گئے جن میں جن میں 72 مرد 43 خواتین اور 55 بچے بھی شامل ہے 75 افراد زخمی ہوئے جبکہ 15 ہزار 337 مکانات منہدم ہوگئے ،رپورٹ کے مطابق صوبہ کے مختلف اضلاع میں 670 کلو میٹر پر مشتمل 6 شاہراہیں متاثر اور 16 پل ٹوٹ چکے۔
65 سالہ محمد نعیم بھی میاخانزی گاؤں میں رہائش پزیر ہیں۔ محمد نعیم نے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی میں اس طرح کی طوفانی بارشیں نہیں دیکھیں۔ جو اس طرح کے نقصانات کر سکیں۔
” اس طرح لگا رہا تھا جیسے بارش کی بجائے آسمان سے پانی گر رہا ہے اور چند گھنٹوں میں زمین دریا کی منظر پیش کر رہا تھا”
حالیہ بارشوں سے نہ صرف مکانات کو نقصان پہنچے بلکہ پیاز کے تیا ر فصلیں جو کہ کہی ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہو گئیں۔
موسلادھار بارشوں اور سیلاب ریلے کے باعث کوئٹہ کے شہری محمد کریم شاہوانی کے 25 ایکڑ پر کھڑے انگور کے کھڑی باغ بھی مکمل تباہ ہو گیا ہے۔ جس سے نہ صرف محمد کریم بلکہ ان کے باغ سے منسلک کسانوں کی زندگی کی جمہع پونجی بھی بارشوں کے نظر ہو گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جنہیں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے متاثرین کیلئے مختص فنڈز بحالی پروگرام کی جلد تکمیل کیلئے فوری خرچ کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں صوبائی حکومتوں سے مل کر کام کر رہے ہیں، انہوں نے ہدایت کی ہے کہ امدادی رقم سیلاب متاثرین پر خرچ ہونی چاہیے۔
این ڈی ایم اے کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 30 سالوں میں سالانہ اوسط ریکارڈ کے مقابلے میں ملک بھر میں 133 فیصد سے زائد بارشیں ہوئی ہیں۔
پنجاب میں 101 فیصد، خیبرپختونخواہ میں26 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں۔ بلوچستان میں 305فیصد اور سندھ میں 218 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ گلگت بلتستان میں68،آزاد جموں کشمیر میں9 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں سیلاب اور بارشوں کے باعث مختلف واقعات میں11 اموات رپورٹ ہوئیں۔ سیلاب متاثرین کیلئے فی کس 10 لاکھ کے امدادی چیک کی ترسیل بھی جاری ہے