Ultimate magazine theme for WordPress.

یہاں کا پانی اتنا گندا اور زیریلا ہے جسے جانور بھی نہیں پی سکتے لیکن ہم لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں

پانی کی کمی کے باعث پیرکوہ میں رہائشی جوھڑوں میں جمع شدہ بارش کا گندہ پانی پیتے آرہے ہیں

0

رپورٹ : سہیل ابابکی

ڈیرہ بگٹی

 

یہ سے 17 کلومیٹر فاصلے پر پہاڑ کی چوٹی پر واقع پیرہ کوہ گاوں میں قائم آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹید (او جی ڈی سی ایل) ہسپتال کے مناظر ہیں۔

یہاں  کولیرا/ ہیضہ کی وباء پھوٹی جو کہ پورے گاوں پھیل گئی۔ پیرہ کوہ کے رہائشی محمد نواز کا خاندان بھی اسی وباء سے متاثر ہے۔

محمد نواز

ان کی ایک بیٹی، بیوی اور بہو ہیضہ سے متاثر ہیں جن کا علاج گزشتہ دو دنوں سے ہسپتال میں جاری ہے۔

پانی کی کمی کے باعث پیرکوہ میں رہائشی جوھڑوں میں جمع شدہ بارش کا گندہ پانی پیتے آرہے ہیں یہاں پینے کے صاف پانی کا کوئی زریعہ نہیں۔ ماہرین صحت اس وبائی مرض کی وجہ پینے کے صاف کا نہ ہونا قرار دیتے ہیں

ہیضہ بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلتا ہے کولیرا/ہیضہ ذیادہ تر آلودہ پانی آلودہ غذا اور ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے پھیلتا ہے۔

محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پیر کوہ میں ہیضہ سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 3 ہزار 486 ہے جبکہ جانبحق افراد کی کل تعداد 8 ہے۔ جبکہ مقامی افراد کی جانب سے 25 ہلاکتوں کا دعوی سامنے آرہا ہے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ “زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گرتی رہی تو پاکستان 2023 میں ڈرائی ملک ڈکلئیر ہوجائے گا۔ 1990 میں واٹر سٹریس ممالک کی فہرست کے لئے ایک لائن وضع کی گئی تھی جس کو پاکستان نے ٹچ کیا جبکہ 2005 میں پاکستان نے وہ لائن عبور کر دی تھی۔”

بلوچستان کے اکثر اضلاع پشین، ڈیرہ بگٹی خاران پنجگور اور لوارالائی میں واٹر ٹیبل سمرسیبل کے پانی نکالنے کی حد سے بھی نیچے گر چکا ہے۔

شاہ زین بگٹی

پیر کوہ کی آبادی قریب 40 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے منتخب رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے پیر کوہ کو یومیہ 3 لاکھ 60 ہزار لیٹر پانی مہیا کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا چیف سیکرٹری نے پیر کوہ واٹر پراجیکٹ کو دو ماہ میں مکمل کرنے کا کہا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بلوچستان کے اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کے زخائر تیزی سے گھٹ رہے ہیں ماہرین کا ماننا ہے اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو آنےںولے دنوں میں بلوچستان کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ثنااللہ پانیزئی

بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ خغرافیہ و ریجنل پلاننگ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھانے والے
ڈاکٹر ثنااللہ پانیزئی زیر زمین پانی کی کمی کی بنیادی وجہ ماحولیاتی تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔
ڈاکٹر ثنااللہ پانیزئی بتاتے ہیں 1990 میں واٹر سٹریس ممالک کی فہرست کے لئے وضع کی گئی لائن 2005 میں پاکستان عبور کر چکا ہے۔

 

پیر کوہ کے رہائشی محمد نواز نے بتایا “یہاں پینے کے لئے جو پانی ہم استعمال کر رہے ہیں وہ ایک نالے (جوھڑ) کا پانی ہے۔ جس کا پانی گندا اور زیریلا ہے۔ جب سے ہم یہاں آباد ہیں ہمیں اسی طرح کا پانی پینے کو میسر ہے۔ یہاں کا پانی اتنا گندا اور زیریلا ہے جسے جانور بھی نہیں پی سکتے لیکن ہم لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔”

نوروز

پیر کوہ کے ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر نوروز
پیرکوہ میں پھیلے وبائی امراض کی بنیادی وجہ پینے کے صاف نہ ہونے کو قرار دیتے ہیں۔

“یہاں پر ایک ہی جگہ پر ٹہرے جمع شدہ پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈرم میں جمع شدہ میں اگر ہاتھ ڈال دیا جائے تو وہ پورے ڈرم کے پانی کو خراب کردیتا ہے۔ واش روم کے استعمال کے بعد ہاتھ نہ دھونا اور ذیادہ تر آگاہی کی کمی کی وجہ سے یہ وباء پھیلی۔”

مقامی ڈاکٹر نے انکشاف کہ ہیضہ کی وباء پھیلنے سے قبل (او جی ڈی سی ایل) کے ہسپتال میں سہولیات کی کمی تھی۔ وباء کے بعد محکمہ صحت نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے بنیادی سہولیات مہیا کیں۔

ڈیرہ بگٹی کا علاقہ پیرہ کو کہاں واقع ہے؟

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق کی جانب قریب 360 کلومیٹر دوری پر ڈیرہ بگٹی واقع ہے۔ پیرہ کوہ یہاں سے گاوں 17 کلومیٹر دور پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں قدرتی گیس کے زخائر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں یہاں سے ملک بھر کو گیس کی فراہمی ہوتی ہے۔

محکمہ آپ باشی کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہء 2000 کے بعد بلوچستان میں آنے والی خشک سالی کے نتیجہ میں زیر زمین کی سطح مسلل گراوٹ کا شکار ہے۔

پیرکوہ میں زیر زمین پانی کی مقدرا 11 سو فٹ تک نیچے گر گئی ہے پیر کوہ میں لگائے جانے 11 سو فٹ گہرے دو ٹیوب ویل خشک ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر ثنا اللہ بتاتے ہیں “بلوچستان پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت ایک خشک صوبہ ہے۔ جہاں پانی کی شدید کمی ہے۔ماحولیات کے دو انڈیکیٹرز ہیں ایک درجہ حرارت جبکہ دوسرا بارشیں۔ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں سالانہ 10 انچ سے بھی کم بارش ریکارڈ ہوتی ہے جو کہ بہت کم ہے۔”

وہ بتاتے ہیں کہ ” اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کا یہ سلسلہ اگر جاری رہا تو 2040 تک پاکستان اپنے خطے کا سب سے ذیادہ اور دنیا بھر میں 23 واں واٹر سٹریس ملک ہوگا۔”

بلوچستان کے ژوب موسی خیل شیرانی وہ اضلاع ہیں جو سون کی رینج پر واقع ہیں ج یہاں بارشیں ذیادہ ہوتی ہیں۔ جبکہ سبی، جعفر آباد اور نصیر آباد کو سندھ سے پانی ملتا ہے ان اضلاع میں پانی کی صورتحال کچھ بہتر ہے۔

بلوچستان میں واٹر ایمرجنسی نافذ کرکے واٹر بیلنس اسسمنٹ کی ضرورت ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ بلوچستان کے کن اضلاع میں سالانہ کتنی بارش ہوتی ہے؟

وہ صوبے می کاشت کاری کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کرنے پر زور دیتے ہیں۔ “ایسے پھل جو ذیادہ پانی پیتے ہیں اسے واٹر ریزیسٹڈ پھلوں کے زریعہ تبدیل کرنا ہوگا۔”

1991 میں صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا معاہدہ طے پایا گیا جس کے تحت پنجاب کو 48.92 سندھ 42.64 خیبر پختونخوا 5.05 جبکہ بلوچستان کو صرف 3.38 فیصد پانی ملتا ہے۔

بلوچستان کا پانی میں کل حصہ 10,900 کیسوسک ہے۔ پروفیسر ثناا اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ حکومت بلوچستان کو صرف 7,000 کیوسک پانی فراہم کر رہی ہے۔ حکومت بلوچستانیہ مسئلہ کو سندھ حکومت کے سامنے رکھے۔

ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شا نے بتایا
“17 اپریل کو کولیرا وباء پھیلنے کے فوری بعد حکومت بلوچستان نے اقدامات اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے پانی کے وہ زرائع بند کئے جس کی وجہ سے لوگ متاثر ہوئے۔ ڈیرہ بگٹی سے پیر کوہ کی آبادی کے لئے واٹر باوزرز کے زریعہ تازہ پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔”

پیر کوہ میں جاری واٹر سپلائی اسکیم کا وزیر اعلی نے نوٹس لیتے ہوئے دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔

 

ماحولیاتی تبدیلی کا زکر کرتے ہوئے فرح عظیم شاہ نے بتایا موجودہ حکومت لانگ ٹرمز پلاننگ ترتیب دے رہی ہے۔

پہلے سے جاری شجر کاری مہم میں اب مذید تیزی لائی جارہی ہے۔ جنگلات ذیادہ ہوں گے تو بارشیں ذیادہ ہونگی جس سے نہ صرف ماحولیات میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی بلکہ زیر زمین پانی کے زخائر میں اضافہ ہوسکے گا۔ حکومت ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے جلد اہم اقدامات اٹھائے گی۔

پیر کوہ میں اقوام متحدہ کی ٹیمیں بھی امداد کے لئے پہنچی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹیمیں ان دنوں پیر کوہ کے رہائشیوں میں ہیضہ سے متعلق آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔

ٹیم کے رکن نے بتایا” یہاں آکر پتہ چلا کہ لوگوں میں آگاہی کی کس حد تک کمی ہے۔ ہماری ٹیم گھر گھر جاکر آگاہی مہم چلا رہی ہے تاکہ لوگ اس وباء سے بچ سکیں جب تک آگاہی سمیت صاف پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی اس وباء پر قابو پانا مشکل ہوگا

unicef

انہوں نے مذید بتایا کہ انکی ٹیم پیر کوہ کے بازار سے دور دراز پہاڑ کی چوٹیوں پر قائم چھوٹی جھونپڑیوں میں گئے جہاں لوگوں اسے اس وباء کے بارے میں بالکل بھی آگاہی نہیں رکھتے تھے۔ جب کبھی ان جھونپڑیوں میں بسنے والے افراد بیمار ہوتے ہیں تو انہیں پہاڑ سے اتار کر ہسپتال تک لانا ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے۔

پیر کوہ میں ٹینکرز کے زریعہ گھر گھر پانی پہنچا کر پانی کے ڈرمز بھر دئے جاتے ہیں۔ لیکن رہائشیوںکو پانی کے حصول کے لئے رجسٹریشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ کسی زحمت سے کم نہیں

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.