کسی ایک جرنیل، جج، بیوروکریٹ کو بلوچستان کا علم نہیں۔ جسکو آپ بلوچستان کہتے ہیں اصل میں برٹش بلوچستان یعنی پشتون اکثریتی صوبہ تھا
تمام سیاسی و جمہوری قوتوں بشمول عمران خان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں مل بیٹھ کر اس ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلانے کیلئے راہ نکالتے ہیں
پاکستان کی سیاسی معاشی حالات،گول میز کانفرنس بلائی جائیں،محمود خان اچکزئی
شروع دن سے جمہور کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختیاری سے انکار کے نتیجے میں مشکلات سے دوچار ہوتا رہا ہے
اسلام آباد ( الجزیرہ ویب ڈیسک :یو این اے) ملک کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات صرف روایاتی انداز میں انتخابات کرنا سے نہیں سدھرئیگا جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز کا گول میز کانفرنس بلاکر اس سوال کا جواب نہ ڈھونڈا جائے کہ یہ ملک کس نے اور کیسے چلانا ہے۔
اس خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد بارایسوسی ایشن کی دعوت پر ”پاکستان کی بقاء جمہوریت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے“ کے موضوع پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمودخان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسائل سے بھرا ملک ہے، شروع دن سے جمہور کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختیاری سے انکار کے نتیجے میں مشکلات سے دوچار ہوتا رہا ہے، تمام سیاسی و جمہوری قوتوں بشمول عمران خان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں مل بیٹھ کر اس ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلانے کیلئے راہ نکالتے ہیں۔
انہوں نے کہاں کہ اس مقصد کیلئے وہ ہر کسی کے پاس جانے اور اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک طرف بین الااقوامی و علاقائی صورتحال اور دوسرے طرف ہمارے ملکی سیاسی اور معاشی حالات ہمارا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ملک معاشی حالات کی وجہ سے غربت اور مہنگائی کے اس نہج پر پہنچنے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو کسی بھی وقت افراتفری اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حالت انتخابات سے نہیں، بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز کی گول میز کانفرنس جس میں ملک کو چلانے کے اصول وضح کئے جائیں،جب تک ملک میں بسنے والے اقوام کی تاریخ سے آشنا نہیں ہونگے ملک کی اندرونی و بیرونی پالیسی، قوانین موثر ثابت نہیں ہونگے۔ہم لوگوں کو وزیراعلی اور وزیراعظم وغیرہ لاتے ہیں اور خود انکو کرپٹ کرتے ہیں، شفاف فیڈریشن لائیں، عوامی رائے میں مداخلت نہ کریں، چار سال میں ملک درست سمت میں آجائے گا۔لائے گئے ایورگرین سیاستدان آج تک برسر اقتدار ہر پارٹی و آمر انہ اقتدار کا حصہ رہے ہیں میری رائے میں ان پر اب پابندی لگنی چاہیے۔
سیاسی آقابرین کیلئے بطور رکاوٹ مخالفت میں لوگوں کو لانے سے نتیجہ یہی نکلا کہ نفسیاتی طور پر پاکستان کا معاشرہ ہر آنے والے کی پوجاری بنی اور ہر جانے والے کو گالیاں دیتی رہی ہے،پاکستان کو بچانے اور ٹھیک کرنے کا الف یہ ہوگاکہ افواج اور جاسوسی اداروں کو آئینی فریم میں رہتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز آنا ہوگااور عوام کے منتخب کردہ نمائندے، سیاسی جمہوری پارٹیاں ہی ممالک چلاتے ہیں۔
سویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہیں جو بزور طاقت ایجنسیوں کے ذریعے ملکی ادارے چلانے سے ناکام ہوا خفیہ ایجنسی کے بغیر وہاں کوئی کچھ نہیں بن سکتاتھا باوجود اسکے کہ بڑے باصلاحیت اہلکار اور جنگی وسائل رکھتے تھے۔اس لیئے ضروری ہے کہ ملک کی بقا کیلئے ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی رائے لی جائے اور اسٹیبلیشمنٹ کو آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، جمہورکی حکمرانی کا کڑوا گھونٹ پینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں کے رویے کا اس سے اندازہ لگائیں کہ تین دہائیوں قیدوبند میں رہنے والے میرے والد خان شہید کو جب ہم خط لکھتے تھے تو ” کیر آف CID” لکھنا پڑتا تھا جو CID سے ہوکر آتا جاتا تھا، بچے ایسا کیا لکھیں گے کہ آپ اس پر بھی نظر رکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جن ججز نے این آر اوکے تحت حلف نہیں لیا اور تمام مراعات کو مسترد کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، جمہور اور قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑتے ہوئے انہیں ملکی اعزاز سے نوازتے ہوئے تمغے دیئے جائیں اور این آر اوکے تحت حلف لینے والے ججز سے تنخواہیں واپس لی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف قوموں کا شریک فیڈریشن ہے جس میں پشتون، بلوچ، سرائیکی، سندھی اور پنجابی اقوام اپنی اپنی آبائی سرزمین پر آباد ہیں،ناانصافیوں کے ذریعے اسے بزور طاقت نہ متحد رکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی چلایا جا سکتا ہے۔
اس کی بقا جمہوری وفاقیت، آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری میں ہے جہاں ہر قوم کو اپنے وسائل پر اختیار ہو اور سیاسی معاشی و ثقافتی حقوق حاصل ہو۔ اس سلسلے میں محمود خان اچکزئی نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہاں کہ وہاں مختلف عقائد، درجنوں زبانیں اور قومیں آباد ہیں اور سخت ترین غربت کے باوجود بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنانے اور چلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اب وہ معاشی استحکام اور ترقی کی طرف گامزن ہے لیکن بدقسمتی سے ہم جمہوری راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے آئے روز مشکلات اور بحرانوں میں گرتے جارہے ہیں۔
بحرانوں سے نکلنے اور ملک کو ترقی کی جانب گامز ن کرنے کیلئے ججوں، جرنیلوں، بیوروکریسی سمت سب کو اپنے آئینی دائرہ میں رہنا ہوگا۔لیکن یہاں شروع سے مراعات اور کرپشن کے بل بوتے پر ایک مصنوعی سیاسی طبقہ بنایا گیا جو ہر آمریت اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کا حصہ بنتاہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ ایسے عناصر کو اپنے صفوں میں شامل نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اقوام کی زبانوں کے احترام کیلئے بطورِ مثال قرآن کی آیت کا حوالہ دیتا ہوں جس میں خدا تعالیٰ زبانوں کی تخلیق کو اپنی ربوبیت کی نشانی قرار دیتا ہے۔آج سائنس بھی اقوام کی مادری زبانوں میں تعلیم کو دماغ کی بہترین کارکردگی کیلئے تجویز کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علی وزیر کی رہائی کیلئے پشتونخواملی عوامی پارٹی نے ملک، ملک سے باہر 16دسمبر کو بھرپور احتجاجی مظاہرے کیئے اور وکلاء برادری پر زور دیا کہ علی وزیر کی رہائی کیلئے ہمارے آواز میں اپنی آواز ملاتے ہوئے اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی ایک جرنیل، جج، بیوروکریٹ کو بلوچستان کا علم نہیں۔ جسکو آپ بلوچستان کہتے ہیں اصل میں برٹش بلوچستان یعنی پشتون اکثریتی صوبہ تھا جسکو ملیامیٹ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے میں اگر کسی ایک ریاست کی بقا اور آزادی کو خطرہ ہوا تو یہ پوری خطے کے عدم استحکام کو شکار کرکے بالکانائزیشن (Balkanization)کی طرف جاسکتے ہیں جس میں نہ افغانستان،نہ ایران اور نہ ہی پاکستان محفوظ ہوگا۔
انہوں نے کہاں کہ افغانستان اور پاکستان بہترین دوست بن سکتے ہیں جو علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کا نوید ہوگا۔ اگر دونوں طرف سنجیدہ ہو تو ہم اس دوستی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔