گوادر میں راجی مچی کے انعقاد اور مسنگ پرسنز کے معاملے پر معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے سوالات اٹھا دیے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر مسئلہ مسنگ پرسنز کا تھا تو کیا ڈپٹی کمشنر گوادر یا چیئرمین گوادر پورٹ اسے حل کر سکتے تھے؟ ان کے مطابق جس مسئلے پر کوئٹہ میں بات ہونی تھی، اس کے لیے راجی مچی گوادر کیوں لے جائی گئی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان چین کے ساتھ سی پیک فیز ٹو پر مذاکرات کر رہا تھا۔ یہ مؤقف جولائی 2024 میں شاہد رند کے بیان سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جس میں انہوں نے گوادر احتجاج کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا تھا
