نظام ناکام نہیں، نتائج دے رہا ہے، وزیراعظم و فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے معیشت بہتر ہو رہی ہے: ایاز صادق
اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ نتائج دے رہا ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ملک کی معاشی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے معاشی حالات انتہائی خراب ہو چکے تھے، تاہم اب معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جبکہ بعد ازاں ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرکے عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور وقار میں اضافہ کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔ کسی بھی نظام کی کامیابی یا ناکامی کا حتمی فیصلہ عوام ہی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بطور کسٹوڈین آف دی ہاؤس ان کی ذمہ داری ہے کہ پارلیمان میں ارکان اور متعلقہ اداروں کی محنت ضائع نہ ہو۔ وقفہ سوالات کے دوران وزراء یا سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر سختی کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ پارلیمانی نظام مؤثر انداز میں چل سکے۔
ایاز صادق نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ان سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان میں داخل ہوتے وقت آیت الکرسی، درود شریف اور چاروں قل پڑھتے ہیں، جس سے ماحول بہتر ہو جاتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ ماضی میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور اب بھی دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان بعض معاملات موجود ہیں، تاہم امید ہے کہ مذاکرات اور افہام و تفہیم سے مسائل حل ہو جائیں گے۔
پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹیوں میں عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپس آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی عدم موجودگی سے کمیٹیوں کا کام رکا نہیں، تاہم اپوزیشن کی شرکت سے حکومت کا بہتر احتساب اور اصلاحات کے لیے مؤثر تجاویز سامنے آ سکتی ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہر فرد اور جماعت کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے اور اس معاملے پر بحث میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے مقامی حکومتوں جبکہ کچھ نئے صوبوں کی بات کر رہے ہیں، تاہم ہر مسئلے کا حل مذاکرات، مکالمے اور سیاسی اتفاق رائے میں ہے۔
ایاز صادق نے کہا کہ احتجاج، محاذ آرائی اور تصادم مسائل کا حل نہیں، بات چیت ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔
پی ٹی آئی کے مذاکراتی مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اس معاملے میں غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتی ہے، کیونکہ مذاکرات کی بات ہونے پر سوشل میڈیا کے ردعمل سے خوفزدہ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی اپنی اندرونی کمیٹی تشکیل دے کر واضح فیصلہ کرے تاکہ سیاسی عمل میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔

