ایک ایم فل سند یافتہ خاتون خودکش حملہ آور بنے تو کوئی وجہ تو ہے – سابق وزیر اعظم پاکستان
ایک خاتون جس کے پاس ایم فل کی سند ہو، شادی شدہ ہو اور اس کے بچے بھی ہو۔ اس کا خاوند اچھی نوکری کرتا ہو جبکہ خاتون خود بھی اچھی تنخواہ لیتی ہو۔ اس خاتون کے والدین تعلیمی اداروں میں ہو اور وہ خودکش حملہ بنتی ہے تو کوئی وجہ ہے، نظام کے اندر کوئی خرابی ہے۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ‘بلیک ہول’ کے مکالمے کے نشست کے دوران کیا۔
سابق وزیر اعظم نے بلوچ ‘فدائی’ خاتون شاری بلوچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ان کا خودکش بمبار بننا نظام میں خرابی کے باعث ہوئی ہے۔
خاقان عباسی نے مزید کہ ہم اس بات کو ماننے سے انکاری ہے، ہم انکاری ہے کہ یہ مسئلہ ہے بھی یا نہیں، میرے خیال میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنا پڑے گا۔ اس مسئلے کی بنیاد پر وسائل کے حوالے سے باتیں اپنی جگہ پر ہے لیکن فارم 47 پاکستان میں اٹھارہ سے آیا ہے لیکن بلوچستان میں 88 سے چلتی آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ ایک قوم کو اپنی حق نمائندگی سے محروم کریں گے، ان کی رائے کا احترام نہیں کرینگے تو آپ کا بھی احترام نہیں کریں گے۔ ہم ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ کس نے کیا کیا، ہم یہاں کیسے پہنچے، اس کی ڈاکیومنٹیشن کریں، ہم سارے ذمہ دار ہیں۔

