سردار اختر جان مینگل کی رہائش گاہ پر چھاپہ قابلِ مذمت، سیاسی اختلاف کا جواب سیاسی انداز میں دیا جائے، حزب اللہ مینگل
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کراچی کے سینئر رہنما حزب اللہ مینگل نے سردار اختر جان مینگل کی رہائش گاہ پر چھاپے اور سیاسی رہنماؤں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو دباؤ میں لانے کے بجائے سیاسی و جمہوری طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا بنیادی حصہ ہے، اسے طاقت، دباؤ یا خوف کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے اور انہیں ہراساں کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ تشویش ہیں بلکہ اس سے سیاسی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔
حزب اللہ مینگل نے کہا کہ ریاست کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بامعنی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر کسی سیاسی رہنما یا جماعت سے اختلاف ہے تو اس کا جواب سیاسی اور جمہوری انداز میں دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی آوازوں کو دبانے کے بجائے انہیں سننا اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا کرنے والے اقدامات حالات کو بہتر بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خصوصاً بلوچستان جیسے حساس خطے میں سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی کو کم کرنے کے لیے برداشت، مکالمے اور جمہوری رویوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کے بجائے سیاسی عمل کو مضبوط کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔

