تحریر : عطاء اللّٰہ مینگل اوستہ محمد”
بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر خضدار نڈر بہادر دلیر لوگوں کا شہر ہے۔جنت نظیر پر سکون فضا سنگلاخ چٹانوں کی دھرتی مادر وطن خضدار نے بہادر لوگوں کو جنم دیا ہے۔ یہاں کی بہادری کو تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس دھرتی سے محبت رکھنے والے اور اپنے درتی کا نام روشن کرنے والے ہماری بہنوں میں تعلیم کا رجحان اور شعور منظم طریقے سے دلچسپ ہے۔ اگر بات کی جائے خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی بلوچستان کی وہ واحد انجینئرنگ یونیورسٹی ہے جس نے پورے ملک کے ہونہار طلبہ وطالبات کو چھوٹے آفیسر سے سیکریٹری چیف سیکریٹری کے اعلیٰ منصب تک جا پہنچایا ہے۔ وہ قوم کبھی ترقی کی منزل طے نہیں کر سکتی جس قوم میں تعلیم نہ ہو۔ اسی طرح خضدار جھالاوان کی بہادر بیٹی کا اگر نام لیا جائے تو اس کی بہادری ایک مثال ہے ،۔بہادری خداوند تعالیٰ کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہوتا ہے جو ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتا بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے یہ انمول تحفہ اللّٰہ پاک نے خضدار جھالاوان کی بہادر بیٹی انجینئر میڈم رضیہ سلطانہ موسیانی زہری کو دی ہے، ساتھ ساتھ اللّٰہ پاک نے بڑی ہمت اور محنت سے بھی نوازا ہے۔ جھالاوان کی بہادر بیٹی جس نےانجینئرنگ یونیورسٹی خضدار سے انجینئرنگ کی کورس مکمل کرنے کے بعد 2007 میں گورنر بلوچستان سے سند فراغت سرٹیفکیٹ حاصل کی، پہلے مرحلے میں بہادر بیٹی نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں بطور ایس ڈی او برتی ہو کر اپنے کیریئر کا آغاز کیا دھیرے دھیرے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہایت محنت لگن ایمانداری سے اپنی خدمات سر انجام دیتی رہی بالاآخر ترقی پاکر ایکسیئن بن گئی۔وہ 14 جنوری 2021 میں بطور ایکسیئن پی ایچ ای نصیر آباد تعینات ہوگئی اور اس کو پورے بلوچستان سے یہ اعزاز حاصل ہےوہ بلوچستان کی واحد پی ایچ ای خاتون ایکسیئن آفیسر ہے۔ ڈیرہ مراد جمالی تعیناتی کے فوراََ بعد اپنی اسٹاف میں تعرفی پروگرام بریفننگ اور ڈپارٹمنٹ میں تمام کاموں کا جائزہ لینے کے بعد باقاعدہ طور پر کام آغاز شروع کی وہ نصیر آباد کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی تھی، اس بہادر خاتون آفیسر میں محنت بہت زیادہ تھی انتہائی محنت لگن ایمانداری اور فرض شناسی سے اپنی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتی تھی نصیر آباد میں اپنی ڈپارٹمنٹ کی تمام واٹر سپلائی اسکیموں کی ہر وقت وزٹ کرتی ،ابتدائی تعیناتی ڈپارٹمنٹ میں بہت سے مشکلات تھے لیکن نہایت حکمت عملی سے آہستہ آہستہ آسانیاں پیدا ہوئی۔ ضلع بھر کے تباہ حال واٹر سپلائی اسکیمات کی بحالی کے لیے دن رات محنت کرتی رہیں یہ بہادر آفیسر جب فیلڈ پر وزٹ کرنے جاتی ہے تو اپنی گاڑی خود ڈرائیونگ کرتی ہے انہیں یہ معارت بھی حاصل ہے، انہوں نے ابتدائی تعیناتی ڈیرہ مراد سٹی کے بعد دور دراز علاقوں جیسا کہ تحصیل چھتر تحصیل تمبو تحصیل بابا کوٹ سمیت پی ایچ ای کی تمام اسکیموں کا دورہ کرتی رہیں اور واٹر سپلائی اسکیموں اور کاموں کا جائزہ لیتی رہی۔ اپنی آفس میں عوام کی آبنوشی شکایت کا بروقت ازالہ کرتی تھی وہ انتہائی ذہین اور سخت ترین آفیسر ہے ذرا سی اگر کوئی غیر اخلاقی باتیں کرے تو وہ انہیں سخت لہجے میں ایسی کھری کھری سناتی کہ وہ مثال بن جاتی۔کسی میں ایسی جرت نہیں ہوتی کہ وہ اخلاق کے دائرے سے ذرا سی ہٹ کر ان سے بات کرتے۔ وہ بہادری کی ایک مثال ہے۔ گرمیوں کی سیزن میں پٹ فیڈر کینال میں ایک سے دو مہینے بھل صفائی کا کام ہوتا ہے جس کے لیے محکمہ پی ایچ ای کو شہر کے تمام واٹر سپلائی تالابوں کو پانی ذخیرہ کرنے ہوتی ہے تاکہ عوام کو پانی کی عدم فراہمی اور مشکلات نہ ہو۔ یہ بہادر اور محنتی آفیسر اپنی تمام تر آرائشوں آفس ایئر کنڈیشنڈ کی ٹھنڈی ہواؤں کو چھوڑ کر گرمیوں کی پرواہ کیے بغیر دپتی دھوپ میں تالابوں کی پانی ذخیرہ کرنے کی خود نگرانی کرتی تھی جس کو کئی دن بھی لگ جاتے ہیں تاکہ پانی کی عدم فراہمی سے عوام کو تکلیف نہ پہنچے۔ ضلع نصیر آباد سخت ترین گرم علاقہ ہے جون جولائی کی سخت گرمیوں میں جہاں ٹمپریچر 50 سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز ہوتی ہے یہ بہادر آفیسر اس سخت گرمیوں میں بھی عوام کی خدمت کے لیے کھڑی رہتی تھی۔ موصوفہ کی کارکردگی اور ایمانداری کی زندہ مثال یہ ہے ایک مرتبہ جون 2022 میں ان کی ٹرانسفر کچھی فیز ٹو میں ہوئی تو عوام سراپا احتجاج بن گئے پرنٹ الیکٹرانک سوشل میڈیا پر احتجاجی رکارڈ قائم کیے ہمیں ایسے محنتی ایماندار آفیسر کی ضرورت ہے جو عوام کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی تھی ، اس نتیجے میں انتظامیہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور ان کی تبادلہ واپس کر دیا ایک مرتبہ پھر ایکسیئن پی ایچ ای نصیر آباد تعینات ہوگئی۔ اس دوران نصیر آباد سمیت پورے ملک میں مسلسل مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری تھا مون سون بارشوں کے بعد قیامت خیز سیلاب شروع ہوئی اس وقت پی ایچ ای ڈپارٹمنٹ میں بہت سے نقصانات ہوگئے پانی ذخیرہ اندوز تالابوں میں بارشی اور سیلابی پانی کی داخل اور گزر ہو گئی مون سون برسات رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا کافی مشکلات پیدا ہو گئی عوام پانی مانگنے کی بجائے پانی بند ہونے کی استغفار اور معافیاں رب سے مانگ رہے تھے ڈیرہ مراد میں چاروں طرف سیلاب اور پانی ہی پانی تھا بڑی کوشش کے بعد ڈیرہ مراد جمالی شہر کو سیلاب سے بچا لیا بارشیں ختم ہوگئی محکمہ پی ایچ ای میں کافی مشکلات پیدا ہو گئی لیکن اس بہادر اور محنتی آفیسر نے کوئی ہمت نہیں ہاری۔سیلاب متاثرین کو صاف پانی کی یقینی بنانے کے لیے یونیسیف قطر چیرٹی سمیت مختلف این جی اوز کی مدد تعاون سے عوام کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے پانی میں کلورین ڈال کر ٹینکروں کے ذریعے دن رات عوام سیلاب متاثرین تک صاف پانی کی فراہمی بڑی محنت سے جاری رکھی ہوئی تھی۔ اتفاق سے اسی دوران اس بہادر آفیسر کی شہر خضدار سے تعلق رکھنے والی میڈم عائشہ زہری ڈی سی نصیر آباد تعینات ہوگئی جو اس سے پہلے بطور اسسٹنٹ کمشنر مچھ ڈیوٹی سر انجام دے رہی تھی۔ لوگ بڑے خوش ہوگئے کہ دو بڑے آفیسرز ایک قوم ایک زبان اور ایک ہی شہر سے تعلق رکھنے والی ہیں دوسری بات اس وقت نصیر آباد میں موجودہ اسسٹنٹ کمشنر میڈم حدیبیہ جمالی تھی جو سابق (ر ) کمشنر نصیر آباد ڈاکٹر سعید جمالی کی بیٹی ہے۔ عائشہ زہری کی ڈی سی تعیناتی سے کچھ دنوں بعد اسسٹنٹ کمشنر حدیبیہ جمالی کی خلاف کاروائی کی آغاز ہوئی نجانے ایک عورت کو عورت آفیسر سے کیا دشمنی تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر حدیبیہ جمالی کی خلاف کاروائی ہوئی کہ وہ بطورِ اسسٹنٹ کمشنر سیلاب متاثرین کی بروقت ممکن مدد نہیں کی ہیں اپنی فرائض میں کوتاہی برتی ہے وغیرہ وغیرہ جس سے اسسٹنٹ کمشنر حدیبیہ جمالی کو معطل کر دی گئی۔ مگر ایک عورت کی عورت دشمنی کی آگ پر بھی نہ بجھی دوسرے مرحلے میں ایکسیئن پی ایچ ای میڈم رضیہ سلطانہ زہری کو نشانہ بنائی اور ایک رپورٹ بنائی کہ آپ نے ڈیرہ مراد جمالی عوام کو زہریلا مضر صحت پانی سپلائی کی ہے جس سے عوام مختلف امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں اپنی صفائی ڈی سی کو پیش کیا جائے۔ دوسری جانب پی ایچ ای ایکسیئن میڈم رضیہ سلطانہ زہری سمیت وہاں کے عوام نے اس نوٹس کو جھوٹی من گھڑت اور سراسر تعصب پر مبنی قرار دیا ہے اور کہا ہے جس واٹر سپلائی اسکیم کو بنیاد بنا کر موصوفہ کی خلاف کاروائی کی گئی وہ بند اور غیر فعال واٹر سپلائی ہے۔ بہرحال اس رپورٹ کو کاغذی کارروائی میں سچ ثابت کرنے کے لیے ڈی سی نصیر آباد میں اپنی عورت ذات آفیسروں کو ہٹا کر یہ چاہتی تھی نصیر آباد میں صرف میں خاتون آفیسر رہوں۔ عوام کی ساری خوشی خاک میں مل گئی کہتے تھے دو بڑے آفیسرز کی تعلق ایک قوم ایک زبان اور ایک شہر سے ہے نصیر آباد میں قسمت کی دیوی کھل گئی دونوں مل کر نصیر آباد کے لیے بہترین کام کریں گے دونوں بیوروکریٹ آفیسر ہے لیکن یہ کہ ڈی سی کے پاس اختیارات ہے۔ اس وقت ایکسیئن کی خلاف ڈی سی نے کاغذی کارروائی اوپر کی سطح تک بیھج دی اور ایک تعصبانہ رپورٹ کی بنیاد پر ایکسیئن پی ایچ ای میڈم رضیہ سلطانہ زہری جیسی محنتی اور قابل آفیسر کو او ایس ڈی کردی گئی۔ مگر افسوس کرسی اور اختیارات ہر وقت کسی کے پاس نہیں رہتی۔ آج جو کچھ کر رہی ہو کل آپ کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے تب آپ کو احساس ہوگی۔ میڈم رضیہ سلطانہ زہری کی اپنی ڈپارٹمنٹ میں دو سالوں کی انتھک محنت اور کوششوں کو ضائع کردی جس کا بے حد افسوس ہے۔ وہ آج ایکسیئن نہیں رہی تو کل آنے والے وقت میں دوبارہ اپنی پوسٹ پر بحال ہو سکتی ہے۔ مشکل وقت ہمیشہ کے لیے مشکل نہیں رہتا لیکن اس مشکل وقت میں سب کی پہچان ہو جاتی ہے اور وہ پہچان انسان کبھی نہیں بھولتا ۔ ہر مشکل وقت کے بعد ایک روشن چراغ ہوتی ہے۔ میڈم رضیہ سلطانہ زہری کو او ایس ڈی کر سکتی ہو لیکن اس کی بہادری کو ختم نہیں کرسکتی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میڈم رضیہ سلطانہ زہری تعصبانہ کاروائیوں کی شکار ہوگئی ہے کیونکہ ایسی محنتی قابل نڈر اور بہادر آفیسر جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دن رات تمام خطرات کے باوجود کسی کی پرواہ کیے بغیر محنت لگن سے اپنی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتی تھی۔ نصیر آباد کی تاریخ میں پی ایچ ای ڈپارٹمنٹ میں وہ کام کسی مرد آفیسر نے نہیں کی ہیں میڈم رضیہ سلطانہ زہری نے کر کے دکھائی ہے۔ چائے واٹر ٹیکس کے حوالے سے ہو یا لینڈ معافیاں کی صورت میں ہو، اپنی ہر فیصلے پر پہاڑ بن کر ڈٹ جاتی۔ سینکڑوں کے بعد حقیقی معنوں میں ایسی فرض شناس اور ایماندار آفیسر پیدا ہوتی ہے جو قابل فخر بن جاتی ہے۔ ایسی بہادر آفیسر کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تھی حوصلہ شکنی نہیں۔ اسی ناانصافیوں کی وجہ سے احساس کم تری کا شکار ہوتے ہیں۔ محکمانہ کارروائی ایک حصہ ہے سب کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ لیکن محکمانہ کارروائی غلط اور تعصب کی بنیاد پر ہوئی تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ بلوچستان کی واحد اعزازی پی ایچ ای خاتون آفیسر کے ساتھ اس طرح کی ظالمانہ کاروائی یہ تاثر دے رہی ہے کہ اپنی بہن بیٹیوں کو پرھا کر آفیسر بنانا اس تنگ نظری معاشرے میں کسی جرم سے کم نہیں ہے۔
آپ یہ بھی پسند کریں