شادی کی دوسری سالگری منانے کی مکمل تیاری کے بعد محمد نعیم کی لاش گھر پہنچی تو اہلیہ کو شدید صدمہ پہنچا
رپورٹ۔۔عصمت امان سمالانی
محمد نعیم مغربی کی نماز پڑھ کر دعا کرنے ہی لگاکہ اسے کو ایک فون کال آئی کہ خیزی چوک پر دھماکے کی آواز سنی گئی ہے حسب معمول وہ اپنے ساتھی ریسکیو رضاکار کے ساتھ تقریبا 8 کلو میٹر فاصلے پرخیزی چوک پہنچا جہاں ٹرانسپورٹ کمپنی کے اندر دستی بم دھماکے میں زخمی افراد کو ریسکیو کرنے لگا کہ اس دوران دوسرا دھماکہ ہوگیا جس میں دوسروں کی جان بچانے کیلئے پہچنے والا محمد نعیم جان کی بازی ہار گیا

محمد نعیم کی سالگرہ اگلے دن منانے کی گھروالوں کی تیاری بھی مکمل تھی نعیم کی شہادت نے اہلیہ خاندان کے افراد سمیت علاقے بھر سوگ میں مبتلا کردیا
یہ سب بتارہے تھے محمد نعیم کے بڑے بھائی محمد سلیم ان کا کہنا ہے کہ محمد نعیم گھر کی رونق تھا ہم بھائی سےزیادہ آپس میں دوست تھے محمد نعیم گھر واپس آنے پر میرے ساتھ لوگوں کو ریسکیو کرنے والے واقعات سے متعلق بیان کرتے تھے تو میں سن بھی نہیں سکتاتھا میں اکثر محمد نعیم سے کہتاتھا کہ خون سے لت پت افراد کو ریسکیو کرتے ہوئے کیا خوف میں مبتلا نہیں ہوتے۔۔؟
تو وہ کہتا اب عادت ہوگئی ہے اب صرف کسی بھی واقعہ میں پہلی ترحیج لوگوں کی جانیں بچانا ہے جب بھی کوئی واقعہ ہوتاہے تو سب سے پہلے ہم ریسکیو والے پہنچتے ہیں اس وقت کی صورتحال دل دہلانے والی ہوتی ہے لیکن ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی جانیں بچانا ہوتاہے کہ زیادہ سے زیادہ ہم لوگوں کو ہسپتال پہنچاسکیں اور ان کی جانیں بچاسکے

محمد سلیم کہتے ہیں کہ خاندان یا گھر کے قریب افراد میں بھی کوئی اگر بیمار ہوتا تو محمدنعیم کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ان کی ہر ممکن مدد کریں سلیم کہتے ہیں کہ 5 ستمبر کا دن تھا تو مجھے ان کے ادارے سے ایک کال آئی ہے محمد نعیم کی طبعیت ٹھیک نہیں وہ ہسپتال میں داخل ہیں میرے پہنچنے پر میں نے ان کے ریسکیوٹیم کے اہلکاروں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن جب پوچھا کہ میرا بھائی کہاں ہے پتہ چلا کہ دھماکے میں میرا دوست میرا بھائی لوگوں کی جانیں بچاتے بچاتے جام شہادت نوش کی بھائی کو جب دیکھا تو وہ لمحات کبھی نہیں بھول سکتا میرے پاس الفاظ نہیں جو اس وقت کو بیان کرسکوں
محمد نعیم کی اہلیہ نے شادی کی دوسرے سالگرہ منانے کی مکمل تیاری کی تھی
محمد نعیم کی لاش گھر پہنچی تو ان کی اہلیہ کو شدید صدمہ پہنچا
ریسکیو فاونڈیشن نے محمد نعیم کے وہ کپڑے بھی ان کے گھر والوں کے حوالے کیے جس میں وہ شہید ہوئے تھے کپڑوں کو گھر کے افراد نے سینے سے لگایا اور ان کے یاد میں ڈوب گئے محمد نعیم گھر میں سب سے چھوٹےتھے اس لیے خاندان کے افراد ان سے زیادہ محبت کرتے تھے

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ گزشتہ دودہائیوں سے بم دھماکوں ٹارگٹ کلنک سمیت امن و امان کی صورتحال سے دوچار ہے اس دوران ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت عام شہری سمیت ان حملوں کی زد میں آنے والے افراد کو ریسکیو کرنے والے افراد بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھ گئے دودہائیوں میں اب تک دھماکوں میں 5 ریسکیو اہلکار جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوئے ہیں سب سے زیادہ ریسکیو اہلکاروں کو نقصان ایک دھماکے کےبعد فوری دوسرا دھماکے ہونے سے ہوئیں کوئٹہ علمدار روڈ پر ایک کے بعد دوسرا دھماکہ ہونے سے 4 ریسکیو اہلکار جاں بجق جبکہ 4 زخمی ہوئے کوئٹہ خیزی چوک پر دھماکے کے بعد دوسرے دھماکے میں ریسکیو اہلکار محمد نعیم جاں بحق ہوگئے
ریسکیو فاونڈیشن کے رضاکار کامران خان نے بتایاان ریسکیو اہلکاروں کو اطلاع ملتی ہی ان کو وہاں پہنچنا ہوتاہے لیکن راستے بند ہونے سے اگر ایمبولینس سائر بجاتے ہیں تو شہری اس پر دھیان ہی نہیں دیتے جس سے ان کا کام متاثرہوتاہے جس کی وجہ سے جائے وقوعہ پر پہنچنے پر ان کوزیادہ سوچنے کا موقع نہیں ملتا کہ احتتاط کیسے کرنا ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتاہے

دھماکے کہ وقت ریسکیو فاونڈیشن کے اہلکار و محمد نعیم کے ساتھی محمد نصیر کا کہناہے کہ جب دھماکہ ہوا تو ہماری ٹیم فوری وہاں پہنچ گئیں تو دیکھا وہاں ٹرانسپورٹ کمپنی کے اندر دھماکہ ہوا تھا جس میں تقریبا 4 زخمیوں کو ہم نے ریسکیو کردیا اندر کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچاتھا اور اندر آگ کے شعلے بھی بلندہورہے تھے اس دوران دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد ہر طرح بھگدڑ مچ گئی لوگ بھاگنے لگے ہر طرف آگ و دھویں کے شعلے بلند ہونے لگے تو مزید سیکورٹی اہلکار وہاں پہنچ گئے اور کرائم سین کو سیل کردیا اور ہمیں دور رہنے کو کہا تو میں نے دیکھا ہمارے یونیفارم پر موجود بازو پر سفید اور سرخ چمک پٹی دور سے روشن ہونے لگی تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ ہمارا دوست نعیم ہوگا جو وہاں گرا ہوا ہے تو میرے آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے اور میں آگے بڑا تو دیکھا میرا بھائی جیسا دوست محمد نعیم شہید ہوچکا تھا میں اور ہمارے ساتھی بہت سے لوگوں کو مختلف نوعیت کے معاملوں پر ریسکیو کرتے ہیں لیکن اس بار اپنے دوست کو اسٹیچر پر رکھنے لگا تو میرے ہاتھ کانپ اٹھے اور شدید صدمہ پہنچا اس وقت مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں کیسے اپنے دوست کو ہسپتال تک پہنچاوں کیسے گاڑی میں ڈالوں

اسی دھماکے میں شدید زخمی ہونیوالے صحافی محمد ابرار جو کوئٹہ میں نجی چینل کا رپورٹر ہےوہ اس دن وہاں دھماکے کی جسیج کیلئے وہاں موجود تھا کا کہنا ہے اکثر دہشتگردی کے واقعات کی کوریج کے دوران محمد نعیم سے ملاقات ہوتی رہتی تھی زخمیوں و ہلاکتوں کے حوالے سے ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ ہم رابطے میں رہتے ہیں اسی طرح محمد نعیم سے بھی ملاقاتیں ہوئیں تھی اس دن بھی محمد نعیم سے بات چیت کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور محمد نعیم دھماکے کے حوالے سے تفصیلات سے بھی مجھے آگاہ کررہے تھے صحافی محمد ابرار کا کہنا ہے کہ پہلے دھماکے کے بعد میں اور نعیم ٹرانسپورٹ ٹرمینل کے اندر داخل ہونے والے تھے کہ ایک اور زور دار دھماکہ ہوا جس میں ہر طرف آگ کے شعلے بلند ہوئے اور ہم گرگئے صحافی محمد ابرار نے بتایا کہ کچھ ہی دیر میں محمد نعیم کے دیگر ساتھیوں نے مجھے اور ایک زخمی ایس ایچ او کو ایک ایمبولینس میں شفٹ کیا اسپتال جاتے ہوئے راستے میں ایران سے واپس آنیوالے زائرین کی سیکورٹی کیلئے روٹ لگا ہوا تھا ایمبولینس کو روک دیا گیااس صورتحال کے باعث تقریبا 4 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود اسپتال پہنچنے میں 15 منٹ لگ گئے صحافی محمد ابرار کاکہنا ہے کہ بعد میں پتہ چلا کہ میرے ساتھ موجود ریسکیو رضا کار محمد نعیم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بلوچستان چیپٹر کے وائس چیئر پرسن طاہر حبیب ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بےظاہر حالت جنگ نہیں لیکن اندرونی طور پر حالت جنگ ہے عالمی دنیا میں جب جنگیں ہوتی ہیں تو وہاں رضاکاروں و صحافیوں کیلئے خاص ایک استثنیٰ ہوتاہے

لیکن بلوچستان ان چیزوں کا فقدان ہے جن کا خطرہ ہونے سے بلوچستان میں رضارکار خوف میں مبتلا ہیں جس سے رضاکارانہ طور پر کام خطرے میں پڑگیا پاکستان کے بعض شہروں میں رضاکارانہ طور پر کام کا رحجان ختم ہوتاجارہاہے جو ایک افسوسناک پیلوں ہے اسی طرح کوئٹہ میں علمدار روڈ پر ایک دھماکے کے بعد دوسرے دھماکے میں بہت سی جانیں گئیں جس سے واضح ہوتاہے کہ پولیس کو بھی خاص ٹرینگ نہیں جس سے واقعات ہوتے ہیں بلوچستان ایک وارزون ہے
یہاں حکومت کی جانب سے کمزوری کی وجہ سے نقصان ہوتے ہیں ایسے واقعات کی سدباب ہونا ضروری ہے ادارے جدید ساز و سامان سے لیس ہیں لیکن تربیت کی کمی ہے بلوچستان میں امن وامان کنٹرول کرنا مشکل کام نہیں لیکن اس کیلئے منظم طریقے سے منصوبہ بندی سے حالات کو کنٹرول کیا جاسکتاہے بلوچستان کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بات چیت کریں ناراض لوگوں کو منائیں افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں آتی ہیں لیکن وہ امن وامان کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلوچستان میں روزگار سب سے بڑا مسئلہ ہے روزگار کے موقع پیدا کیے جائیں تو بچے تعلیم بھی حاصل کرسکیں گے نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو بلوچستان مسئلہ بہت حد تک حل ہوسکتاہے بلوچستان میں نوجوان افغان و چمن باڈر پر کاروبار کرنےپر مجبور ہیں بلوچستان میں حکمران سیاسی جماعتیں صحافی وکلاءسول سوسائٹی سے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو بیٹھ کر اس مسئلہ کا تدارک کرنا چاہئے