گرلز ڈگری کالج، نوشکی، بلوچستان میں فائرنگ کا واقعہ انتہائی تشویشناک ہے، جس کے نتیجے میں تین طالبات شدید زخمی ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں جہاں ایک جانب تعلیمی بہتری کی بڑی بڑے باتیں ہوتی ہیں، تو وہیں دوسری جانب تعلیمی اداروں کو ایک بار پھر پوری قوت سے نشانہ بنایا جانے کے بعد بھی کوئی خوطر خواہ کاروائی نظر نہیں آتی، جو کہ قابلِ سوال ہے۔ طالبات ہوں یا طلباء، تمام اپنی حفاظت اور سیکیورٹی کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہیں۔ اس سے قبل اساتذہ اور پروفیسروں کو نشانہ بنایا گیا اور اب طلباء کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے تعلیمی ماحول میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ جیسا کہ ہمارا ماننا ہے، معیاری تعلیم صرف ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول میں ہی ممکن ہے جہاں طلباء بغیر کسی خوف اور غیر یقینی کی صورتحال کے علم و تعلیم سے لطف اندوز ہو سکیں۔
اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ان جیسے واقعات کا حالیہ اضافہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ بغیر کسی خوفِ پاداش کے تشدد پر مبنی سنگین ترین جرم کی عکاسی کرتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ، پروفیسروں اور طلباء کی سلامتی سمیت سیکیورٹی کے اقدامات انتہائی غیر تسلی بخش ہیں، جس سے بلوچستان میں خواندگی لٹریسی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ہم اس طرح کے تشدد، بشمول نوشکی گرلز ڈگری کالج میں طالبات کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعے کی مذمت کرتے ہیں، اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے اور اس کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

