Ultimate magazine theme for WordPress.

بلوچستان ایک بہترین سیاحتی مقام

0

تحریر: جعفر قمبرانی

 

لسبیلہ میں موجود ہنگول نیشنل پارک میں ایک انوکھی چیز دو ہزار برس پرانی تاریخی مندر “ہنگلاج مندر” ہے جہاں ہر سال بلوچستان اور سندھ سے ہندوں اپنے مخصوص پوجھا پاٹ کیلۓ تشریف لاتے ہیں، کہاں جاتا ہیں کہ چند برس پہلے بھارت سے لوگ آکر اس مندر کی زیارت کیا کرتے تھیں مگر اب شاید یہ ان کیلۓ نا ممکن ہوتا دکھائی دیتا ہے اور باہر سے آنے والوں کی آمد یہاں رکی پڑی ہے جنکی مزہبی رسومات ہنگلاج مندر کے علاوہ وہاں سے چند میل دور میانی ہور کے علاقے میں موجود 800- 1500 اونچی مٹی فشاں (Mud volcano’s) پہاڑ کے بغیر ادھورے رہینگے جنکی تعداد مختلف لوگ مختلف بتاتے چلے آرہے مگر بغیر سڑک اور شناسائی کے وہاں پہنچنا اور انکی صحیح تعداد بتلانا ناممکنات میں سے ہیں۔ افسوس کا عالم یہ ہے کہ وہی مٹی فشاں سالہا سال مٹی ابھرنے کا ہنر جان کر بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے ہیں. حکومتی ارکان سیاحوں کی آمد کے فوائد سے باخبر تو نہیں کہ جن سے صرف بلوچستان کے لوگوں پر نہیں بلکہ پورے ملک کے معیشیت پر بھی مثبت اثرات ہونگے مگر ان خزانوں تک رسائی ممکن نا ہونا اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا کر روکنا تعجب کی بات ہے۔ چند روز قبل یونیسکو (Unesco) کی سیر و سیاحت کے حوالے سے پوسٹ “ترقی پذیر ممالک کیلۓ سیاحت کا موقع فراہم کرنے کا مطلب اپنے ثقافت اور معیشت کا فروغ” دیکھ کر شدید افسوس کا احساس ہونے لگا کہ ہمارے پاس جہاں مکران کے اندر سیاحتی مقامات ہے تو وہی لسبیلہ اوتھل میں سَسی پُنوں (جنکی عشقیہ داستان ہر زبان پر عام ہے) کے تاریخی مقبروں کے ساتھ ساتھ کراڑی کے دلکش مناظر، مہینوں بہنے والا پانی جو مٹھاس اور ٹھنڈک میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور ان جیسے کہی مقامات ہماری نظروں سے اوجھل اس لیۓ بھی ہے کہ وہاں تک پہنچنا سڑک اور حکومتی توجہ کے نا ہونے کی وجہ سے دشوار گزار ہے۔

 

اگر چھپن چھپی کا یہ کھیل نہ کھیلا جاتا اور بلوچستان کی سرزمیں، اس میں بسنے والے قدرت کے حسن و رنگینیوں اور مسائل کو دنیا کے سامنے لانے کا تہیہ کیا جاتا تو اب تک بیلہ میں پاۓ جانے والے جنرل ہارون (محمد بن قاسم کے دستِ راست) کی تاریخی مقبرہ، برطانوی جنرل رابرٹ سنڈیمن کی یاد گاریں، اور بالاخصوص شیرین و فرہاد کے دل دہلا دینے والی داستان کو سننے کے ساتھ انکے مقبروں کو اب تک اہرام مصر کی طرح ہر آنکھ نے دیکھا ہوتا۔ مصر تو مصر ہے مگر میرا بلوچستان بھی کچھ کم نہیں جس کو زمین پر جنت کی مثل اور سکون کا گہوارہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔

 

یوں ہی جھالاوان خضدار سے قریباً 65 کلو میٹر دور مولا کے علاقے میں پایا جانے والا آبشار جسے چٹوک کہا جاتا ہے۔ سیاحوں کا ان جیسے دلفریب اور خوبصورت جگہوں سے بے خبر رہنا تعاجب کی بات ہے۔ یہی نہیں بلکہ زیدی، ساسول، چارو مچھی کی ٹھنڈی آبشار، پیر عمر، پیر ابرھیم، اور بہت سے ایسے جگہیں موجود ہیں جو اپنے اصل میں جنت کے مانند انسانی عقل کو محسور کرنے والے ہیں! سوال پیدا ہونے لگتا ہے کہ سیاح پاکستانی ہو یا غیر ملکی، کہی ڈالرز خرچ کرکے دنیا بھر کا چکر لگانے کو تیار مستعد کھڑے ہیں تو وہی سیاح بلوچستان میں پاۓ جانے والے ان مقامات تک آنے کو زحمت کیوں نہیں کرتے جہاں کوہِ ہربوئی کی سینہ تانے کھڑا پہاڑ، گرمیوں میں بھی چشموں سے ٹھنڈی، میٹھی پانی اور کپکپی پیدا کرنے والی ہوائیں انسانی روح کو سکون بخشتے ہیں۔ تو وہی گردو نواں میں گیڑھ بست، پندران، نیمرغ، توک اور قلعہِ میری کی تاریخی ملبہ ہے جو اپنے زمانے کی سب سے بڑی عمارت ہونے کا شرف پاکر غالباً ہزار کمروں پر محیط ہوا کرتا تھا۔ انہیں نایاب تاریخی اور یادگار جگہوں پہ پکنک منانے کا اپنا الگ ہی رنگ رلیاں ہیں مگر خواہشِ ناتمام! سیاحوں کو بھلا کون ان دلکش قدرتی نظاروں اور ایک مظلوم قوم تک پہنچنے دیگا ورنہ اس سرزمین میں جتنے سیاحتی مقامات ہیں تو اتنے ہی تاریخی اور ماضی سے جڑے قلعے، جگہیں پاۓ جاتے ہیں۔ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ اور گردونواں میں قدرت کے حسن و رنگوں کی بات کی جاۓ تو ہر خاص و عام کے چہریں پر خنک چاندنی بکھیرنے کیلے بس اتنا کافی ہوگا کہ انہیں 1980 میں نیشنل پارک کا درجہ پانے والی چلتن پارک کی سیر کروائی جاۓ جو قدرت کے حسن کا ایک شہکار پہاڑی سلسلہ ہے جسکی ایک جھلک دیکھنے سے ہر زبان زد عام پر عش عش طاری ہونے لگتی ہے۔ وہی ارد گرد ہنا جھیل، بی بی نانی، باسن دیر، خرواری بابا پری جل اور پیر غیب کے مدہوش کرنے والے آبشاراور خوبصورت مناظر دکھاۓ جاۓ کہ جن کو دیکھ کر مؤرخ بھی اس سرزمین کو جنت کی بمصداق سرزمین قرار دینے پہ مجبور ہو۔ سب سے بڑھ کر باباۓ قوم، بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی آخری جاۓ گزار جہاں انہوں نے اس قوم کو ایک آزاد ریاست سے نوازہ تو وہی اپنے آخری ایام میں زیارت میں رہہ کر یہ تاریخ بھی رقم کردی کہ بلوچستان کی آب و ہوا سے بڑھ کچھ نہیں۔ جہاں زیارت میں پاۓ جانے والے گنے جنگلات کے بیچو بیچ قائد ریزیڈینسی، کیڈٹ کالج اور دل میں سماں جانے والے سرد اور جگنوؤئی چاندنی راتوں کا سیاحوں کو متوجہ نا کرنا اس سرزمین کو نظر انداز کرنے کے منہ بولتا ثبوت ہے۔
آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.