Ultimate magazine theme for WordPress.

بیرک گولڈ کارپوریشن اور صوبہ بلوچستان۔       

0

تحریر:نبلیہ ناز


پاکستانی وزیر اعظم نے 20 مارچ 2022 کو بیرک گولڈ کارپوریشن (کینیڈا میں مقیم ) اور چلی کے اینٹو فاگاسٹا Antofagasta کے حکام سے ملاقات کی ۔ جہاں پہ ایک لمبے عرصے سے جاری متنازع معاہدہ بالآخر طے پا گیا ۔  حکام کے مطابق جنوبی ایشیا کے ملک میں سونے اور تانبے کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ جن پہ وہ کام کرنا چاہتے ہیں ، یاد رہے یہ معاہدہ سنہ 2011 میں روک دیا گیا تھا جب پاکستان نے منصوبے کی تیاری کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ اور اس سلسلے میں ایک لمبے عرصے تک قانونی بحث و مباحثہ جاری رہا ۔
ایک نظر منصوبے پہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ منصوبے میں 50% بیرک اور 50% پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز ہوں گے ، جس میں 10% فری کیریڈ ، غیر شراکت دار حصہ حکومت بلوچستان کے پاس ہو گا ، اضافی 15% ایک خصوصی مقصد کی کمپنی کے پاس ہے جو حکومت کی ملکیت ہےاور 25% دیگر وفاقی و سرکاری اداروں کی ملکیت ہے  ۔اس پروجیکٹ کا آپریٹر بیرک ہو گا۔
اس معاہدے کے مطابق تمام اقدامات اور مالیاتی نظام شفاف طریقے سے کیا جائے گا ، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان کی شمولیت بھی ہو گی۔

ریکوڈک کی ترقی اور قرضوں سے نجات ۔۔

ریکوڈک کان ریکوڈک کے قریب واقع ہے جو کہ ضلع چاغی صوبہ بلوچستان میں واقع ہے ۔ یہاں تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں ایک تخمینے کے مطابق 5.9بلین ٹن خام دھات کے ذخائر ہیں جن میں 0.41 فیصد تانبے اور سونے کے ہیں ۔ ریکوڈک کا علاقہTethyan magmatic arc کا ایک حصہ ہے جو کہ جنوب مشرقی یورپ( ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ،یونان) ترکی ، ایران اور پاکستان سے ہوتا ہوا ہمالیہ کے علاقے سے ہوتا ہوا میانمار ، ملائیشیا ، انڈونیشیا تک پھیلا ہوا ہے ۔ یہاں مختلف درجات کے تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں ۔ ریکوڈک علاقہ چاغی آتش فشاں کے باقی ماندہ میں سے ایک مرکز ہے جو کہ کوئٹہ تفتان ریلوے اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے درمیان بلوچستان کے مشرقی پار گزرتا ہے ۔

بیرک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو(مارک برسٹو) کے بقول ” یہ معاہدہ ریکوڈک کی ترقی کے لیے ایک خوشگوار قدم ہے ”
اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی بلوچستان کی عوام کو اس منصوبے کا معاہدہ طے پا جانے پر مبارکباد پیش کی ہے اور اسے صوبہ بلوچستان کی ترقی کی طرف بڑھتا ہوا اقدام قرار دیا ہے ،
اپنے  ٹوئیٹ میں  عمران خان صاحب نے بلوچستان کی عوام کے لیے قریباً 8000 روزگار کے مواقعوں کا اعلان کیا ہے ۔
یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ صوبہ بلوچستان کی عوام کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جس سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ خان صاحب کی ٹوئیٹ کے مطابق “ریکوڈک پروجیکٹ” ایک بڑے پیمانے پہ ہونے والا پروجیکٹ ہو گا ، جس کا فائدہ بقیہ ملک کو بھی ہو گا
قرضے کی نجات کی صورت میں ۔ ( عالمی بینک کی ثالثی عدالت کی طرف سے لگ بھگ گیارہ بلین کا جرمانہ)۔
تاریخ میں اکثر ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں پہ صوبہ بلوچستان کے ساتھ نا اضافی ہوتی نظر آتی ہے خواہ وہ بیرون ملک تجارتی معاہدے ہوں یا صوبہ میں موجود حکومتی معاملات ، کسی نہ کسی طرح سے یہ معاملات چلتے رہتے ہیں ۔ دو طرفہ بات کی جائے تو اب تک بھی صوبہ بلوچستان کے لوگوں میں تعلیم کی اور شعور کی ایک کمی دیکھی جاتی ہے ، یہ کمی کوئی اور نہیں ہمیں خود دور کرنی ہے اور جب تک ایک پڑھا لکھا باشعور معاشرہ وجود میں نہیں اجاتا تب تک ملک ترقی نہیں کرسکتا ، تعلیم سے مراد ہرگز ڈگریوں کے انبار لگانا نہیں ہے بلکہ خود کو ایک مہذب اور با شعور شہری بنانا ہے جسے اپنے حقوق و فرائض دونوں معلوم ہوں جہاں عوام یہ جانتی ہو کہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کو بھی نبھانا ہے اور معاشرے میں مثبت کردار نبھانا ہے ۔
ریکوڈک پروجیکٹ کا آغاز صرف دو کمپنیوں کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ ایک سنہری موقع ہے عوام اور صوبے کی حکومت کے لیے جس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ، صحیح معنوں میں اگر اس پروجیکٹ پہ کام کا آغاز کیا جائے تو نا صرف بلوچستان کو معاشی ترقی ملے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دن بدن بڑھتی ہوئی بیروزگاری میں بھی کمی آئے گی ۔
اس معاہدے کے متعلق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بتایا ہے کہ یہ 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں واحد سب سے بڑی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرے گی ۔۔
اب پوائنٹ یہ ہے کہ آیا اس پروجیکٹ سے صرف وفاقی مسائل ہی حل ہوں گے یا معاہدے سے متعلقہ علاقوں میں بھی ترقی کی راہیں کھلیں گی ۔۔ پاکستانی وزیراعظم کو ایک کانفرنس متعلقہ صوبے کی حکومت و عوام کے ساتھ بھی کرنی چاہیے اس پروجیکٹ سے متعلق ، جہاں عوام ابھی بھی گوادر پورٹ اور سی پیک پروجیکٹ کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتی ہے اور حکومت کو اپنے کیے گئے وعدوں سے منحرف کہتی ہے ، لہذا خان صاحب سے گزارش کی جاتی ہے کہ اس بار پروجیکٹ کے متعلق تمام اقدامات صوبہ بلوچستان کی حکومت اور عوام کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں ۔ جس سے بلوچستان کی عوام کے وہ تمام خدشات دور ہو سکیں جو ابھی تک سی پیک کے متعلق موجود ہیں ۔
امید یہی کی جا رہی ہے کہ صوبے کی اپ گریڈیشن اولین ترجیح ہو گی ۔ اور یہ آنے والا ریکوڈک پروجیکٹ خوش آئند اور کسی بھی قسم کے سیاسی معاملات سے پاک رہے گا ۔

“جو بات حق ہو ‘وہ مجھ سے چھپی نہیں رہتی
خدا نے مجھ کو دیا ہے دل خبیر و بصیر”

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.