Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

آصف علی زہری: علم، انسانیت اور عزم کا روشن چراغ — ایک لاپتہ نوجوان کی داستان

آصف علی زہری: علم، انسانیت اور عزم کا روشن چراغ — ایک لاپتہ نوجوان کی داستان

 

تحریر: نجیب یوسف زہری

 

آصف علی زہری میرے لیے صرف ایک کزن نہیں تھا، بلکہ میرے چھوٹے بھائی کی مانند تھا۔ ہمارے درمیان محبت، اپنائیت اور اعتماد کا ایک گہرا رشتہ تھا۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ اس احترام اور اپنائیت سے پیش آتا جیسے میں اس کا بڑا بھائی ہوں، اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے بھی وہ ایک کزن سے کہیں بڑھ کر اپنا چھوٹا بھائی محسوس ہوتا تھا۔

 

آصف کی شخصیت کو صرف ایک ذاتی تعلق کے حوالے سے بیان کرنا کافی نہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے اس کے کردار، اس کی سوچ اور ان کاموں کو دیکھنا ضروری ہے جن کے لیے وہ اپنی زندگی میں سرگرم رہا۔

 

آصف کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تعلیم کے حوالے سے اس کی وابستگی تھی۔ وہ اپنے ماموں، شہید پروفیسر عبدالرزاق صاحب کے مشن کو آگے بڑھا رہا تھا۔ عبدالرزاق صاحب ایک استاد تھے اور تعلیم کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آج مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے بہت سے لوگ ان کے شاگرد ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک استاد کی محنت نسلوں تک اثرانداز ہوتی ہے۔

 

آصف اسی مشن کو اپنے انداز میں آگے بڑھا رہا تھا۔ وہ طلبہ کی تعلیمی زندگی میں بھرپور معاونت کرتا تھا۔ امتحانات کی تیاری میں ان کی مدد کرتا، داخلوں کے سلسلے میں رہنمائی فراہم کرتا اور تعلیم سے متعلق دیگر ضروری معاملات میں بھی ان کا ساتھ دیتا تھا۔ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھیں اور اپنے مستقبل کے لیے بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔

 

پشاور میں اس کے دوستوں سے ہونے والی گفتگو سے بھی معلوم ہوا کہ اس نے متعدد طلبہ کے داخلوں، رہائش اور دیگر تعلیمی ضروریات کے سلسلے میں ان کی مدد کی۔ یہ سب کچھ وہ محض کسی وقتی جذبے کے تحت نہیں، بلکہ تعلیم کے فروغ کو اپنے ماموں، شہید پروفیسر عبدالرزاق صاحب کے مشن کا حصہ سمجھتے ہوئے انجام دے رہا تھا۔

 

آصف کی سوچ صرف تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ اس کے اندر لوگوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے لیے کچھ کرنے کا احساس بھی موجود تھا۔ وہ انسانی مشکلات کو محض ایک خبر یا ایک واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرتا تھا، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہی دردِ انسانیت اسے مختلف سماجی مسائل کے حوالے سے متحرک رکھتا تھا۔

 

اسی جذبے کے تحت اس نے بلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے لانگ مارچ میں بھی شرکت کی۔ بلوچستان کی شاہراہوں پر آئے روز حادثات ہوتے تھے اور ان حادثات میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ کوئٹہ۔کراچی روڈ سمیت بلوچستان کی دیگر شاہراہوں کو محفوظ بنانے، انہیں کشادہ اور ڈبل کرنے کے مطالبے کے ساتھ ہم نے یہ لانگ مارچ شروع کیا۔

 

آصف نے اس لانگ مارچ میں ہمارے ساتھ عملی طور پر شرکت کی۔ اس کے دل میں دردِ انسانیت تھا اور وہ بلوچستان کی شاہراہوں کے مسئلے کو کسی ایک قوم، نسل یا علاقے کا مسئلہ نہیں سمجھتا تھا۔ بلوچستان کی شاہراہوں پر صرف بلوچ ہی اپنی جانیں نہیں گنواتے، بلکہ بلوچستان میں آباد پشتون بھی ان سڑکوں پر حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح کراچی، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ بھی ان شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

 

این-25 ایک اہم بین الاقوامی شاہراہ ہے، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی بڑی گاڑیاں اور ٹرک گزرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان شاہراہوں کی حفاظت اور بہتری کا مسئلہ کسی ایک علاقے یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔

 

لانگ مارچ کے دوران جب ہم لسبیلہ پہنچے تو مسلسل پیدل سفر کی وجہ سے آصف کی طبیعت خراب ہو گئی اور اس کے پاؤں میں شدید چھالے پڑ گئے۔ رات کے وقت اسے ڈبل ون، ڈبل ٹو (1122) کے ذریعے لسبیلہ ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔

 

اگلے روز جب ہم دوبارہ روانہ ہونے لگے تو میں نے آصف سے کہا کہ تم واپس چلے جاؤ، کیونکہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن اس نے میرے اصرار کے باوجود واپس جانے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ ہمیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ چنانچہ وہ دوبارہ ہمارے ساتھ چل پڑا۔

 

شدید تکلیف کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری۔ ہم راستے میں رکتے بھی رہے اور سفر بھی جاری رکھا، لیکن اس کا حوصلہ بلند رہا۔ وہ یقین رکھتا تھا کہ ہماری یہ کوشش ضرور رنگ لائے گی اور ایک دن کوئٹہ۔کراچی روڈ بھی بہتر اور محفوظ بنے گی۔

 

اس لانگ مارچ کو بھی اب چھ سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصے کے دوران بلوچستان میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے مسائل کے حوالے سے احتجاج کیے۔ لیکن ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ پرانے مسائل اور واقعات پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد لوگوں کی توجہ نئے اور موجودہ مسائل کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اور پرانے واقعات رفتہ رفتہ یادوں سے اوجھل ہونے لگتے ہیں۔

 

ہمارا لانگ مارچ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ایک پرانا قصہ بن گیا، لیکن جس مسئلے کے خلاف ہم نے آواز اٹھائی تھی، وہ آج بھی موجود ہے۔ بلوچستان کی شاہراہوں پر آج بھی آئے روز حادثات ہوتے ہیں اور لوگ ان سڑکوں پر اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ مسئلہ پرانا ضرور ہو گیا ہے، لیکن ختم نہیں ہوا۔

 

آصف جیسے نوجوان معاشرے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ، لوگوں کے کام آنے کی صلاحیت اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا عزم ہوتا ہے۔ جو نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم، خدمت اور فلاحِ انسانیت کے لیے صرف کر رہا ہو، وہ کسی کے لیے ضرر کا باعث نہیں بن سکتا۔ ایسا نوجوان کسی کو نقصان پہنچانے کے بجائے لوگوں کی مشکلات کم کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے اور معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔

 

ایسے نوجوان کا لاپتہ ہو جانا یقیناً تشویش کا باعث ہے۔

 

میں آصف کے لیے آواز بلند کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ ہمارے معاشرے کو آصف جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ متعلقہ اداروں سے بھی میری اپیل ہے کہ ایسے نوجوانوں کو موقع دیا جائے، ان کی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور انہیں ملک و معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے دیا جائے۔

 

یہی نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں انہی نوجوانوں نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ آصف جیسے نوجوانوں کو دبانے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

 

آصف علی زہری صرف ایک نوجوان نہیں، بلکہ علم، انسانیت اور خدمت کے اس جذبے کا نام ہے جسے اس کے ماموں، شہید پروفیسر عبدالرزاق صاحب نے پروان چڑھایا اور جسے آصف اپنے عمل کے ذریعے آگے بڑھا رہا تھا۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.