خیبرپختونخوا حکومت کا 6.4 ارب روپے کی کٹوتی سے انکار
خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کی جانب سے 6.4 ارب روپے کی کٹوتی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی رضامندی کے بغیر کوئی رقم منہا نہیں کی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق وفاق نے بجٹ سے قبل خیبرپختونخوا سے اضافی رقم کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور اجازت سے مشروط کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے ضم اضلاع کو قومی مالیاتی کمیشن میں جائز حصہ دینے کی شرط تسلیم کی گئی تھی، تاہم عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے باعث اضافی رقم سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہیں کیے گئے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق وزارت خزانہ نے 5 اگست کو خیبرپختونخوا کے واجب الادا 6.4 ارب روپے کی براہِ راست کٹوتی کی تجویز دی، جس پر صوبائی حکومت نے واضح طور پر عدم رضامندی ظاہر کردی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ معاملہ صرف سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے آئینی اور مالیاتی حقوق کا ہے۔ صوبائی حکومت قومی مالیاتی کمیشن میں اپنے حصے کے حصول کے لیے قانونی و آئینی جدوجہد جاری رکھے گی اور صوبے کے مالیاتی حق کے ایک ایک روپے کا دفاع کرے گی۔

