Ultimate magazine theme for WordPress.

غربت ایک حقیقت ایک امر

0

تحریر:نوید سرور

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ہماری آنے والی نسلیں شاید ایک بوند پانی اور کھانے کے ایک نوالے کے لئیے بھی ترس جائیں۔کیونکہ جیسے ہی ٹیکنالوجی اور علم و شعور میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔یونیورسٹیز سے کالجز سے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان آپنی تعلیم کر کے فارغ ہو رہے رہیں ہیں اور سرکاری نوکریوںکے لئیے بھاگ دوڑ شروع کر رہے ہیں ۔ مگر سرکاری نوکری کا حصول بلوچستان میں اب موجودہ سیاست کے مترادف ہو چکا ہے۔ جیسے ایک پارٹی اپنے سارے ہتھ کنڈے استمال کر کے اسمبلی تک پہنچتی ہے ویسے ہی بلوچستان میں بھی نوجوان سرکاری نوکری کو حاصل کرنے کے لئیے ایسے باگھتا ہے۔ حالات یہاں تک آپہنچے ہیں کہ کوئی بھی سرکاری ملازم خواہ وہ کسی بھی ادارے سے ہو جیسے ہی ریٹائرمینٹ کے قریب آ پہنچتا ہے وہ اپنے بیٹے یا آپنے بندے کو اپنی جگہ پے بھرتی کرنے کے لئیے سوچتا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ کتنے دور کی سوچتے ہیں یہ بھی شعور کی ایک اوپری درجے کی حد ہے۔ اخبارات، سرکاری دفاتر، نیوز چینلز، غرض یہ ہے کہ ہر جگہ غربت اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری پے بحث و مباحثہ ہو رہا ہے۔ بڑے بڑے فلاسفرز بیٹھے ہیں تزکرہ کرنے کے لئیے کیا کسی نے کبھی غور کیا ؟ کسی نے آپنے ضمیر سے مخلس ہو کر یہ سوچا ہے کہ نوجوانوں میں تعلیم کی موجودگی کی باوجود ایسا کیوں ہے۔ یہ خطہ جو کہ رقبے کے لحاظ سے آدھا پاکستان کہلاتا ہے اور آبادی کے لحاظ سے بھی خاصی تعداد رکھتا ہے۔ قدرتی کرم نوزیاں بھی اتنی ہیں کے انہیں اگر کار آمد میں لایا جائے تو پورا پاکستان اس ترین ملک بن جائے امیر پے
آخر کیوں ہیاں پے کوئی بھی نظام کامیاب نہیں؟ اللہ تعالی نے انسانوں اور جانوروں میں صرف سوچنے کی حص کا فرق رکھا ہے اگر ہم آنے والی نصلوں کا اچھا مستقبل چاھتے ہیں تو ہمیں سوچنا ہو گا سوچنا ہوگا کے ہم اتنے مالدار خطے سے ہوتے ہوئے بھی اتنا پیچھے کیوں ہیں؟ اور سوچنے سے پتا چلتا ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ شعور کا ہونا بھی لازمی ہے انگریز تو جا چکا ہے مگر جاتے جاتے ہم میں کچھ کمزوریاں چھڑ گیا ہے جن میں غلامی سرِ فہرست ہے اور یہ حقیقت ہے چاہے کوئی اسے تسلیم کرے یہ نا کرے۔ پہلے تو انگریز کی غلامی تھی مگر اب اپنے وڈیرےکی سرکاری افسران کی سردار کی میر معتبر کی اور تو اور اب تو انکے بیٹوں اور منشیوں کی بھی اور پھر پتا نہیں کیوں یہ سلسلہ رکتا ہی نہیں ۔ جی ہاں، اخلاق اپنی جگہ لیکن غلامی اور خوش آمدی عیاں ہے۔ شعور ہوگا تو اچھے برے کے پہچان ہوگی اپنے نمائندے جنہیں ہم اپنا سپاہی، اپنا کلمدان، اپنے حق کا پہرے دار بناتے ہیں انکی سلیکشن اچھے سے کر سکتے ہیں۔ مگر یہاں تو بات ہی اس کے برعکس ہے ہم پہلے ووٹ دے کر اپنا وزیر کسی اور کو بناتے ہیں جوکہ یا تو زمیندار ہوگا یا تو کوئی میر معتبر۔ اور پھر جب ہمیں نوکری نہیں ملتی امتحانات میں دھاندلی ہوتی ہے تو پھر ہم سڑکوں پر نکلنے میں دیر ہی نہیں کرتے اور انہی وزیروں کی ریلی میں شامل ہو کر جو ہمارے حق کے اصل جاب دے ہوتے ہیں اور فلک شگاف نعروں کی بانجھاڑ ہوتی ہے۔ کہ جی ہمیں اسٹیبلشمنٹ ہمیں ہمارےاختیارات نہیں دیتی ہمارے حق نہیں دیتی اور پھر یہیں سے ہی ایک حریت پسند اور آزادانہ سوچ کا آغاز ہوتا ہے۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہونگے تا کہ ہمارا مستقبل اچھا ہو اور ہم دنیا میں سر اٹھا کر فخر سے گھوم سکیں ہماری آنے والی نسلیں ہمیں ان سب کا زمہ دار نہ ٹھرائیں ہمیں ترقیات اور سہولیات کے ساتھ ساتھ شعور بھی چاہیے۔ شعور اور آگاہی سے قومیں بنتی ہیں۔ کیونکہ جہالت کو جتنی رعایت ہمارے معاشرے نے دی ہے شاید اس کی مثال کہیں ارو نہ ملے۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.