اگر بلوچستان میں ایک لڑکی اپنی اور اپنے خاندان کی جان کی بھیک مانگ رہی ہو ، تو کیا یہ بھی اس ملک کے لیے خبر نہیں ؟ سمی دین بلوچ
کل سے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اسمہ جتک کی ویڈیو گردش کر رہی ہے، مگر چونکہ اسمہ کا تعلق بلوچستان سے ہے، اس لیے نہ قومی میڈیا نے اسے اپنی ہیڈ لائن بنایا، نہ کسی بڑے نیوز روم نے اس کی فریاد کو سنجیدگی سے لیا۔ بلوچستان میں اگر ایک لڑکی اپنی اور اپنے خاندان کی جان کی بھیک مانگ رہی ہو، تو یہ بھی اس ملک کے لیے خبر نہیں بنتی۔
اسمہ جتک جنہیں 5 فروری کی رات خضدار میں اس کے گھر سے سردار ثنااللہ کی سرپرستی میں سرگرم اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ظہور جمالزئی نے صرف اس لیے اغوا کیا کہ اس نے شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ اسے تین دن تک جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا، ہراساں کیا گیا، اور دباؤ میں لا کر اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔ اس کے خلاف اسمہ کے خاندان اور عوام نے شدید احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں اسے بازیاب کرایا گیا۔ بعد ازاں حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ نے ایک چارٹر آف ڈیمانڈز پر دستخط کرتے ہوئے اسمہ اور اس کے خاندان کو تحفظ اور ملوث افراد کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ مگر یہ وعدے بھی ہمیشہ کی طرح کاغذوں تک محدود رہے۔
کل اسمہ جتک ایک بار پھر قرآن ہاتھ میں لیے متعلقہ حکام سے فریاد کر رہی تھی کہ ظہور جمالزئی اور اس کا مسلح گروہ اسے اور اس کے خاندان کو دوبارہ قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اسے تحفظ دیا جائے۔ مگر چند ہی گھنٹوں بعد اس کے والد کو سرِعام گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس سے پہلے اس کے منگیتر اور ماموں کو بھی قتل کیا جا چکا تھا۔
اب سوال صرف ظہور جمالزئی جیسے مسلح عناصر کا نہیں، بلکہ اس ریاست اور یہاں کے قانونی نظام کا ہے جس کے سائے میں ایسے گروہ اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ اغوا کریں دھمکیاں دیں قتل کریں، مگر قانون ان تک نہ پہنچ سکے۔ بلوچستان کا اصل المیہ چند غنڈے نہیں، بلکہ وہ قانونی، سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ہے جو ایسے عناصر کو، تحفظ دیتا اور انہیں قانون سے بالاتر بنا دیتا ہے، سمی دین بلوچ
حکومتِ بلوچستان کو جواب دینا ہوگا کہ جنوری 2025 میں جس چارٹر آف ڈیمانڈز پر اس نے دستخط کیے تھے، اس کی حیثیت کیا تھی؟ اگر سرکاری ضمانت کے باوجود ایک خاندان کو تحفظ نہیں مل سکتا تو پھر حکومت کے دستخط، وعدے اور بیانات محض احتجاج ختم کرانے کے کاغذی حربے تھے۔
بلوچستان حکومت جو آئے روز اپنی کارکردگی اور گڈ گورننس کے دعوے کرتی ہے، کیا آج اسمہ جتک اور اس کے خاندان کو انصاف دے سکے گی؟ کیا وہ بااثر مسلح عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ثابت کرے گی کہ بلوچستان میں قانون طاقتور اور کمزور، دونوں کے لیے برابر ہے؟
اگر اس بار بھی انصاف نہ ملا اور تحفظ کے وعدے کاغذوں تک محدود رہے، تو یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ نام نہاد سردار عوام کے نمائندے نہیں، بلکہ بلوچ سرزمین پر مسلط ایسے بااثر غنڈے اور کرائے کے قاتل ہیں جو ہر قسم کی قانونی جوابدہی سے محفوظ ہیں۔

