پچھلی کئی دہائیوں سے بلوچستان میں شورش وقتن فوقتن جنم لیتی رہی ہے، شورش کی اب تک جاری پانچویں لہر جو دو ہزار چار سے اب تک اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔
نئے سال کے دسویں مہینے میں حکومت بلوچستان کے مطابق چھ ہزار کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز کیے گئے جس میں گیارہ سو سے زائد دہشتگرد مارے گئے، 101 پولیس پرسنل اور 200سے زائد لا انفورسمنٹ پرسنل شہید ہوئے۔
دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی بھی اپنے عروج پر ہے، اسی کے ساتھ ایک نئی مذہبی تنظیم جسےاتحاد لامجاہدین پاکستان کے نام سے بنایا گیا جو اپریل 2025 کو جنم لیا جس کی قیادت حافظ گل بہادر کر رہے ہیں، یہ ، ٹی ٹی پی سےالگ گروپ ہے اور یہ ٹی ٹی پی سے زیادہ خطرناک ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی بلوچستان میں سرداری قبائلی نظام ہے مگر اس کے باوجود ایک طرف اس نظام کو سراہا جاتا ہے تو دوسری طرف یہاں پر سنگین ناانصافیوں کے کیسز بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
سرداری نظام کے خلاف سو سال سے آوازیں اٹھائی گئی ہیں جو آج تک جاری ہیں۔ دو مرتبہ پاکستان کی آزادی سے یعنی 1929,1932 میں پہلی مرتبہ انجمن اتحاد بلوچستان کے لیڈر میر یوسف عزیز مگسی اور عبدالعزیز کرد جس میں سرداری نظام کے خاتمے، مفت تعلیم اور عورتوں کی برابری شامل تھی۔ 1931 1932 آل انڈیا بلوچ کانفرنس میں سرداری اور سیاکاری نظام ختم کرنے کرارداد پیش ہوا۔
8 جون 1972 کو بلوچستان اسمبلی کی پہلی قرارداد فیمیل ایم پی اے فاضیلہ علیانی نے پیش کی، جس کی حمایت اس وقت کے سردار عطا اللہ مینگل نے کی جو خود بھی سردار تھے۔
جبکہ 1974 میں نیپ حکومت نے دوبارہ کوشش کی، لیکن قانون نہیں بن سکا۔ 8 اپریل 1976 کو ذوالفقار علی بھٹو نے کوئٹہ کے اس وقت کے ایوب اسٹیڈیم میں 1976 کے ایکٹ کے تحت سرداری نظام کو ختم کیا۔
ایوب خان کے دور میں بھی سرداری نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی اور 2006 میں مشرف نے سرداری نظام کو ختم کرنے اور کمشنر سسٹم لگانا چاہتا تھا، مگر آپریشن کے بعد فیل ہو گیا
جبکہ موجودہ قرارداد 23،26 اکتوبر کو پیش ہوا، مگر اسمبلی نے اسے مسترد کیا۔
دوسری طرف اگر ہم سرداری نظام کی بنیاد تک پہنچنے کی کوشش کریں تو یہ تقریباً چھ سو سے آٹھ سو سال تک پرانا نظام ہے اپنی اصل حالت میں موجود یعنی خود احتسابی کی اعلیٰ مثال اس میں پائی جاتی تھی جہاں سردار کو قبیلہ منتخب کرتا تھا اور سردار کو احتساب کے عمل سے گزرنا ضروری تھا یعنی قانون کی نظر میں سردار اور عام عوام برابر تھے۔
سرداری قبائلی نظام بارہویں صدی سے اس کا آغاز ہوا، جہاں سردار موروثی نہیں بلکہ قابلیت، بہادری اور جرگے کے ذریعے چنا جاتا تھا، اس کے بعد 1487,1512 میر چاکر خان رند کا دور جسے بلوچ دور کا سنہری دور بھی کہا جاتا ہے، جہاں سرداری نظام کو خالص جمہوری نظام کہا جاتا تھا، اس کے علاوہ 1666 ,1839 تک خان کا دور رہا، جہاں 46 بلوچ قبائل کو ایک مرکز کے تحت جوڑا، سرداری قبائلی نظام کو اس کے تحت مضبوط بنایا۔
مگر پھر بدقسمتی سے برطانوی سامراجی دور شروع ہوا جہاں بلوچستان کے سنگلہ پہاڑی اور وسیع علاقے کو فوج کے تحت قابو کرنا مشکل تھا جس کی بدولت سر رابرٹ سینڈیمن نے سردار کو قبائل سے بری الذمہ قرار دیا اب سردار قبائل کے بجائے برطانوی سرکار کو جواب دہ تھا جہاں سردار کو کئی مراعات دی گئ جس کی وجہ سے ناانصافیاں شروع ہوئیں اور احتساب کا عمل رک گیا
حالیہ دور میں سری لنکا جو ہمارے قریبی ہمسایہ ملک ہے، جو سارک ممبر بھی ہے، جہاں 2022 میں انقلاب آیا، سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکسے کی حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا، جو پندرہ سال سے حکومت میں رہے۔
سری لنکا میں 1948 یعنی آزادی کے بعد برطانوی طرز پارلیمنٹ نظام کی بنیاد رکھی گئی، جہاں اصل طاقت وزیرِ اعظم کے پاس تھی، جو 1972 تک چلا، لیکن اسی نظام میں اقلیتوں خاص طور پر تاملوں کے حقوق محفوظ نہیں رہ سکے۔
دوسرا نظام پارلیمانی جمہوری نظام تھا، جہاں برطانوی نظام کو غلط نظام کہہ کر ختم کیا گیا، جہاں برطانیہ سے آخری حد تک تعلقات بھی ختم کیے گئے۔ تیسرا نظام صدارتی نظام جو 1978 کا آئین جو آج تک ہے، جہاں پارلیمانی نظام کو کمزور کہہ کر فرانس کے طرز پر بے پناہ طاقتور صدر بنایا، جہاں صدر قانون سے بالاتر ہوگا، باوجود اس نظام کو اب تک کا سب سے برا نظام کہا گیا، جس میں اب تک اکیس ترامیم کی گئی ہیں۔
اور چوتھے نظام کے تحت اہم ترامیم کی گئیں جس میں تیرہویں، اٹھارہویں، بیسویں اہم ہیں اس کے علاوہ انیسویں ترامیم میں صدر کے اختیارات کو کم کیا گیا، پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی، نظام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اسے بدلنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے حالات رد کی طرف چلے گئے۔
ایڈمنڈ برک کو قدامت پسندی کا باپ کہا جاتا ہے، اس نے فرانسیسی انقلاب کے خلاف لکھا کہ ہر نظام کو گرانا بہادری نہیں بلکہ اس کو بچاتے ہوئے ٹھیک کرنا اصل دانشمندی ہے۔
جہاں دوسری جانب کارل پاپر نے اسے سوشل انجینئرنگ کا نام دیا، جہاں وہ کہتا تھا کہ پورے نظام کو ایک ساتھ بدلنے سے فساد پیدا ہوتا ہے، بہتر ہے کہ خرابی کو پہچان کر ایک ایک کر کے ٹھیک کیا جائے۔
بالکل اسی طرح کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر نظام کو دیکھا جائے کہ کہاں غلطی ہو رہی ہے۔
اس سے پہلے جو سرداری نظام اپنی اصل حالت میں موجود تھا جس میں خود احتسابی تھی، سردار عوام کو جوابدہ تھا۔
اور اس کے علاوہ اس موجودہ نظام کو دیکھا جائے، ان حصوں پر کام کیا جائے، انہیں درست کرنے کی کوشش کی جائے، حقیقی معنوں میں لوگوں کو جگہ دی جائے، نظام میں موجود غلطی کی نشاندہی کی جائے، نہ کہ بالکل نیا نظام لایا جائے جو کہ ڈیموگرافی کو میچ نہ کرے اور مذید سنگینیت کا باعث بنے۔

