کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال کے بجائے مسئلے کا سیاسی اور پُرامن حل تلاش کیا جانا چاہیے
آج درخت کاٹے جا رہے ہیں کل پہاڑ اور پھر عمارتیں کاٹی جائیں گی، بلوچستان میں درخت کاٹنے، بچوں کو اٹھانے اور گھروں کی مسماری سے نفرت کا لاوا مزید پکے گا، ایک وقت آئے گا حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے، کامران مرتضیٰ
کوئٹہ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر و معروف قانون دان کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں اس سے بدتر حالات انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے انہوں نے کہا کہ کسی کے درخت کاٹے جا رہے ہیں، کسی کے بچے اٹھائے جا رہے ہیں اور کسی کے گھر مسمار کیے جا رہے ہیں، یہ سب کچھ کرنے سے عوام میں نفرت مزید بڑھے گی
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر درخت کے پیچھے کچھ چھپا نہیں تو درخت کاٹنے کی ضرورت کیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہاں تک آ ہی چکے ہیں تو اپنے گھر جا کر آرام کریں یا کسی دوسرے ملک جا کر سکون سے رہیں، مگر اس طرح کے اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے
انہوں نے خبردار کیا کہ آج درخت کاٹے جا رہے ہیں، کل پہاڑوں اور پھر عمارتوں کو کاٹنے کی نوبت آئے گی ایسے اقدامات سے حالات مزید خراب ہوں گے اور ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب صورتحال کسی کے قابو میں نہیں رہے گی

