Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں صوبائی حکومت کی مداخلت میرٹ نہیں بلکہ میرٹ کی پامالی کے لیے ہے: بی ایس او شال زون

سروس کمیشن کے انٹرویوز بغیر وجہ بتائے ملتوی کرنا سوالیہ نشان ہے، وجوہات سامنے لائی جائیں یا چیئرمین مستعفی ہوں: بی ایس او شال زون

کوئٹہ،

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت خودمختار اداروں کے معاملات میں مبینہ مداخلت کرکے بھرتیوں کے عمل میں براہِ راست فریق بن رہی ہے، جس سے نوجوانوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے مسلسل ایسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں جو میرٹ اور شفافیت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ ڈویژنل سطح پر ہونے والی بھرتیوں کو یونین کونسل کی سطح تک محدود کرنا بھی ایک غیر معمولی طریقہ کار ہے، جس کے بارے میں حکومت کو واضح وضاحت دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو براہِ راست خطوط لکھ کر تحصیلدار سمیت مختلف آسامیوں کے انٹرویوز کے عمل کو روکنے یا ملتوی کرنے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اگر انٹرویوز ملتوی کیے گئے ہیں تو اس کی وجوہات عوام اور امیدواروں کے سامنے واضح کی جائیں، کیونکہ نوجوان سالہا سال محنت کرکے امتحانات اور انٹرویوز کے لیے تیاری کرتے ہیں اور ان کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

بی ایس او شال زون کے ترجمان نے کہا کہ ایک جانب بعض آسامیوں پر ایڈہاک بنیادوں پر تعیناتیوں کے معاملات سامنے آتے ہیں اور دوسری جانب مستقل بھرتیوں کے لیے سروس کمیشن کے مراحل کو روکنے یا مؤخر کرنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ نہ صرف امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ خودمختار اداروں کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے انٹرویوز کو روکنے یا ملتوی کرنے کا آئینی و قانونی اختیار کس کے پاس ہے۔ اگر کسی انتظامی یا قانونی وجہ سے انٹرویوز ملتوی کیے گئے ہیں تو وہ وجوہات باضابطہ طور پر جاری کی جائیں تاکہ امیدواروں کے خدشات دور ہوسکیں۔

بی ایس او شال زون نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان پہلے ہی بے روزگاری اور مواقع کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں سرکاری ملازمتوں کے بھرتی عمل کو سیاسی یا انتظامی مداخلت سے متنازع بنانا نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بھرتیوں کا واحد معیار قابلیت، میرٹ اور شفاف مسابقت ہونا چاہیے۔

ترجمان نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ ادارے کے آئینی و قانونی اختیارات کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے بھرتیوں کے عمل کی شفافیت یقینی بنائیں۔ اگر کمیشن اپنے اختیارات آزادانہ طور پر استعمال کرنے سے قاصر ہے یا کسی بیرونی دباؤ کے تحت کام کر رہا ہے تو چیئرمین کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے، بصورتِ دیگر مستعفی ہونے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

بی ایس او شال زون نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے تحت تمام بھرتیوں اور ملتوی کیے گئے انٹرویوز کے حوالے سے مکمل تفصیلات، وجوہات اور آئندہ کا شیڈول فوری طور پر عوام اور امیدواروں کے سامنے لایا جائے، تاکہ میرٹ، شفافیت اور امیدواروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.