Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

چار بار کی عالمی چیمپئن پاکستان ہاکی ٹیم کا ورلڈکپ 2026 میں سفر کیسا رہا؟

ورلڈکپ 2026: 4 بار کی عالمی چیمپئن پاکستان ہاکی ٹیم کا سفر 11ویں پوزیشن پر اختتام پذیر

فل بیک ابوبکر کی قیادت میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈکپ 2026 میں 11ویں پوزیشن حاصل کرلی۔ آٹھ سال بعد عالمی کپ میں واپسی کرنے والی قومی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ میں جگہ نہ بنا سکی۔

نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں مشترکہ طور پر منعقدہ ورلڈکپ میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا، جنہیں چار گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پاکستان گروپ ڈی میں انگلینڈ، ویلز اور روایتی حریف بھارت کے ساتھ شامل تھا۔

پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ کا سامنا کیا، جہاں اسے 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے میچ میں ویلز کے خلاف مقابلہ 3-3 گول سے برابر رہا، جبکہ آخری گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو 3-5 سے شکست دے کر قومی ٹیم کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا۔

سیڈنگ مرحلے میں پاکستان نے جاپان کو 3-4 سے شکست دی، تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف 2-4 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 11ویں پوزیشن کے میچ میں پاکستان کا مقابلہ جنوبی افریقا سے ہوا، جو مقررہ وقت تک 4-4 گول سے برابر رہا۔ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں پاکستان نے 3-4 سے کامیابی حاصل کرلی۔

یوں ورلڈکپ 2026 میں پاکستان نے مجموعی طور پر 6 میچ کھیلے، جن میں 2 کامیابیاں، 3 شکستیں اور ایک میچ ڈرا رہا۔ قومی ٹیم نے ایونٹ میں 17 گول کیے جبکہ اس کے خلاف 23 گول ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے 21 سالہ حنان شاہد 4 گول کے ساتھ نمایاں رہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم ماضی میں عالمی ہاکی پر حکمرانی کرچکی ہے اور 1971، 1978، 1982 اور 1994 میں چار مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں قومی ٹیم کی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے۔

2010 اور 2018 کے ورلڈکپس میں پاکستان 12ویں پوزیشن پر رہا، جبکہ 2014 اور 2023 کے عالمی کپ کے لیے قومی ٹیم کوالیفائی بھی نہ کرسکی۔

ماہرین کے مطابق وسائل کی کمی، جدید ہاکی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا اور انتظامی سطح پر عدم تسلسل نے پاکستان ہاکی کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ انتظامیہ نے عالمی معیار کے کوچنگ اسٹاف کی خدمات حاصل کرنے اور کھلاڑیوں کے مالی مسائل حل کرنے پر توجہ دی ہے۔ باب جان ویلڈوف کو کوچ، کرسٹوفر بووین کو منیجر اور اولمپیئن عدنان ذاکر کو اسسٹنٹ کوچ مقرر کیا گیا۔

فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین وانی کے مطابق 11ویں پوزیشن پاکستان کی توقعات کے مطابق نہیں، تاہم عالمی معیار تک پہنچنے کے لیے قومی ہاکی کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ کا تجربہ آئندہ ایشین گیمز میں قومی ٹیم کے لیے مفید ثابت ہوگا اور پاکستان 2028 اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے کی کوشش کرے گا۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.