قلم کی حرمت اور سچائی کی آواز کبھی مرتی نہیں، وہ آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بن جاتی ہے۔بلوچستان کی صحافت کا افق ایک بار پھر اداس ہے اور ایک توانا، باوقار اور مخلص آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی ۔ ڈیلی الجزیرہ کوئٹہ کے چیف ایڈیٹر اور سینئر صحافی محمد زبیر احمد ابابکی طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔

وہ دو سال سے کینسر (برین ٹیومر) جیسے موذی مرض کے خلاف جرات اور حوصلے سے برسرپیکار تھے، لیکن بالآخر زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے خاندان بلکہ بلوچستان کی پوری صحافتی برادری کے لئے ایک ایسا صدمہ ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔
محمد زبیر احمد بلوچ کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے بلوچستان جیسے کٹھن اور چیلنجز سے بھرپور ماحول میں صحافت کو بطور مشن اپنایا۔ انہوں نے ”ڈیلی الجزیرہ کوئٹہ“ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے صوبے کے پسماندہ طبقات، عوامی مسائل اور محرومیوں کو ہمیشہ اپنے قلم کے ذریعے زبان دی۔

ان کی صحافت صرف خبریں پہنچانے تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ سماج کے پسے ہوئے طبقے کے لئے ایک مضبوط ڈھال تھے۔ انہوں نے ہمیشہ سچائی، دیانت داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو مقدم رکھا۔ مشکل حالات کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ وہ جونیئرصحافیوں کے لئے ایک استاد اور سینئر کے لئے ایک قابلِ فخر ساتھی تھے۔
پیشہ ورانہ زندگی سے ہٹ کر زبیر احمد بلوچ اپنی ذاتی زندگی میں ایک انتہائی شفیق، ملنسار اور مخلص انسان تھے۔ ان کے چہرے پر ہر وقت سجنے والی مسکراہٹ اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ انہیں منفرد بناتا تھا۔ بیماری کے کٹھن ایام میں بھی ان کا حوصلہ دیدنی تھا اور وہ آخری وقت تک زندگی اور اپنے پیشے سے جڑے رہے۔

ان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس پر بلوچستان کے سیاسی، قبائلی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، قبائلی رہنماوں ،وکلاءبرادری اور پریس کلب کوئٹہ سمیت ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے ان کی وفات کو بلوچستان کی صحافت کا ایک بڑا نقصان قرار دیا ۔ ان کے جنازے اور فاتحہ خوانی میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں کتنا احترام رکھتے تھے۔

محمد زبیر احمد بلوچ آج ہم میں نہیں رہے، لیکن ان کا پھیلایا ہوا روشنی کا سفر، ان کی تحریریں اور صحافتی اصول ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ بلوچستان کی مٹی نے ہمیشہ ایسے سپوتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے کڑے وقت میں بھی سچ کا ساتھ دیا۔ زبیر بلوچ کا نام بھی تاریخ کے ان سنہرے حروف میں لکھا جائے گا جنہوں نے قلم کی حرمت پر آنچ آنے نہیں دی۔

