Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

ڈاکٹروں کے خلاف تمام انتظامی کارروائیاں واپس لی جائیں گی: وزیر صحت

ڈینٹل سرجنز اور ایل ایم اوز کی آسامیاں جلد بی پی ایس سی کو بھیجی جائیں گی: وزیر صحت

کوئٹہ: صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹر حئی بلوچ کی قیادت میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے مرکزی کابینہ کے ارکان، سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کوئٹہ زون کے صدر ڈاکٹر نادر اچکزئ اور الائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے صدر جمال شاہ کاکڑ اور دیگر ساتھیوں کے مشترکہ وفد نے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈاکٹر برادری کو درپیش پیشہ ورانہ، انتظامی اور فلاحی مسائل پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
وفد نے وزیر صحت کی توجہ ڈینٹل سرجنز اور لیڈی میڈیکل آفیسرز کی آسامیوں کو فوری طور پر بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) کو بھیجنے، سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کے لیے مؤثر سیکیورٹی کے انتظامات، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے انڈیکسشن اور وظائف کی ریگولرائزیشن، سول ہسپتال کوئٹہ میں جدید لائبریری کے قیام، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے لیے ہاسٹل کی فراہمی، اور ڈاکٹر برادری کو درپیش دیگر اہم مسائل کی جانب مبذول کرائی۔
اس موقع پر وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ڈاکٹر برادری کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور تمام جائز مطالبات پر مرحلہ وار اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینٹل سرجنز اور لیڈی میڈیکل آفیسرز کی بی پی ایس سی آسامیوں کے اجراء سمیت دیگر اہم امور پر محکمہ صحت فوری پیشرفت کو یقینی بنائے گا، جبکہ ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے نظام کو مؤثر بنانے، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے وظائف، انڈیکسشن اور دیگر فلاحی سہولیات کی بہتری کے لیے بھی ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
ڈاکٹروں کے خلاف کی گئی تمام انتظامی کارروائیاں فوری طور پر واپس لی جائیں گی وزیر صحت نے مزید کہا کہ ڈاکٹر برادری صحت کے نظام کا اہم ستون ہے اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ خود اور محکمہ صحت کی پوری ٹیم ڈاکٹرز کے جائز مطالبات کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔
وفد نے وزیر صحت کی مثبت سوچ اور یقین دہانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام فیصلوں پر جلد از جلد عملی پیش رفت ہوگی تاکہ ڈاکٹر برادری کو درپیش دیرینہ مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہوں اور صوبے میں صحت کی خدمات مزید مؤثر انداز میں عوام تک پہنچ سکیں

 

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.