Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

اسما جتک کا معاملہ: آخر طاقتور کون ہے، ریاست یا چند جتھے؟میرا سوال پوچھنا اگر مجھے شہادت جیسے عظیم مقام تک لے جاتی ہے میں سوال پوچھوں گا۔

اسما جتک کا معاملہ: آخر طاقتور کون ہے، ریاست یا چند جتھے؟میرا سوال پوچھنا اگر مجھے شہادت جیسے عظیم مقام تک لے جاتی ہے میں سوال پوچھوں گا۔
حیر بیار قلندرانی
ایک دفعہ اسما جتک کا اغوا ہوتا ہے۔
لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں، سخت احتجاج ہوتا ہے، دھرنا دیا جاتا ہے، دباؤ بڑھتا ہے اور پھر اسما جتک بازیاب ہو جاتی ہیں—جبکہ مبینہ اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
یہ قصہ کوئی افسانہ نہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا اور حکومتی ریکارڈ میں موجود ہے۔
لیکن آج جو کچھ ہوا، اس نے اس پورے معاملے کو ایک بار پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
اسما جتک کا ویڈیو پیغام سامنے آتا ہے، اور چند ہی گھنٹوں بعد اس کے والد کو نامعلوم افراد قتل کر دیتے ہیں۔
یہ محض ایک قتل نہیں، یہ ریاستی رٹ کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
سوال یہ نہیں کہ قاتل کون ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ ایک عام شہری کے گھر میں پہلے اغوا کا خوف داخل ہوتا ہے، پھر باپ کی لاش پہنچتی ہے، اور ریاست صرف تماشائی بنی رہتی ہے؟
اسما جتک کے اغوا اور اس کے والد کے قتل کے معاملے میں جن لوگوں کے نام لیے جا رہے ہیں، جن پر شکوک کی سوئی اٹک رہی ہے، ان کے تعلقات اور پسِ پردہ طاقت کے مراکز کو بھی تحقیقات کا حصہ بنانا ہوگا۔
اور اگر واقعی ان میں سے کوئی شخص کسی معروف قبائلی رہنما یا پارلیمانی شخصیت کے ساتھ گن مین یا قریبی سکیورٹی عملے کے طور پر وابستہ رہا ہے، تو سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔
کیا جھالاوان کی قبائلیت اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک لڑکی کے اغوا میں مبینہ طور پر ملوث شخص طاقتور لوگوں کے سائے میں کھڑا ہو سکتا ہے، اور پورا نظام خاموش تماشائی بنا رہے؟
کیا یہ قبائلی نظام کی وہ آخری حد نہیں جہاں سرداروں کے سامنے قانون، ادارے اور عوام سب سر جھکائے بیٹھے نظر آتے ہیں؟
اور اگر یہ سب غلط ہے تو پھر حکومت تحقیقات کرے۔
کھلی تحقیقات کرے۔
نام سامنے لائے۔
سچ سامنے لائے۔
اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے شک سے آزاد کیا جائے، اور اگر کوئی مجرم ہے تو اس کا سردار، عہدہ، تعلق اور اثر و رسوخ اسے قانون سے نہیں بچانا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اسما جتک کے پہلے اغوا کا کیا ہوا؟
مبینہ اغوا کار کیسے فرار ہوا؟
کس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی؟
تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟
اور اگر سب کچھ معلوم تھا تو آج اسما جتک کے والد کی لاش کیوں اٹھ رہی ہے؟
یہ صرف اسما جتک کے خاندان کا مسئلہ نہیں۔
یہ ہر اس بیٹی کا مسئلہ ہے جسے یہ خوف ہو سکتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کے باپ کو بھی انصاف مانگنے کی سزا مل سکتی ہے۔
آج حکومت سے نہیں، ریاست سے سوال ہے۔
اگر چند جتھے ریاست اور ریاستی اداروں سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں تو پھر عوام کس کے پاس جائیں؟
اگر قبائلی تعلقات قانون سے بڑے ہو چکے ہیں تو پھر آئین کس کے لیے ہے؟
اگر طاقتور لوگوں کے سائے میں جرم کرنے والوں کو تحفظ مل سکتا ہے تو پھر عدالتیں کس کے لیے ہیں؟
اور اگر ایک باپ کی جان بھی اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگنے کی قیمت بن جائے تو پھر ہم کس ریاست، کس قانون اور کس انصاف کی بات کر رہے ہیں؟
اسما جتک کو صرف ہمدردی نہیں چاہیے۔
اس کے والد کے قاتلوں کو صرف مذمت نہیں چاہیے۔
اس خاندان کو انصاف چاہیے—اور انصاف ایسا جو سردار، سیاستدان، گن مین، تعلق اور طاقت سب سے اوپر ہو۔
اب فیصلہ حکومت نے نہیں، ریاست نے کرنا ہے کہ بلوچستان میں طاقتور کون ہے: قانون یا جتھے؟

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.