کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمداللہ نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں لاشیں، لاپتہ افراد، آپریشن، بم دھماکے، شاہراہوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں مشکلات، بجلی اور گیس کی قلت سمیت خوف و بے یقینی کا ماحول ہے۔
حافظ حمداللہ نے کہا کہ بلوچستان کے بلوچ اور پشتون عوام اپنے ساحل، وسائل اور ووٹ کی عزت سے محرومی کی شکایات کر رہے ہیں، جبکہ آئے روز ٹرانسپورٹ کو جلایا جا رہا ہے اور عام شہری، بچے اور خواتین بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بلوچستان کا موجودہ حال پاکستان کا حال اور مستقبل ہے تو کیا پاکستان بھی اسی صورتحال کی طرف جا رہا ہے؟ ملاقاتوں میں بلوچستان کی خون آلود صورتحال اور ناکام ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والا کوئی کیوں نظر نہیں آتا؟
حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اگر کوئی چیز ترقی کر رہی ہے تو وہ صرف قبرستان ہے، جہاں بلوچ اور پشتون اقوام کی لاشیں دفن ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قبرستان آباد اور بلوچستان برباد ہو رہا ہے۔

