Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

“زبیر بلوچ، صحافت کا وہ ستارہ جو خود ایک کہکشاں بن گیا۔”

تحریر:عبد القادر رودینی

صحافتی تاریخ میں کچھ نام ایک عہد کی پہچان بن جاتے ہیں ایسے لوگ جو اپنی زندگی کے شب و روز قلم خبر اور سچ کی تلاش میں گزار دیتے ہیں ان کی جدائی صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ پورا صحافتی منظرنامہ ایک معتبر آواز سے محروم ہو جاتا ہےزبیر بلوچ بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے وہ روزنامہ الجزیرہ کوئٹہ کے چیف ایڈیٹر اور بلوچستان کے سینئر صحافی تھے ان کی جدائی نے صحافتی حلقوں سیاسی و سماجی شخصیات اور ان کے چاہنے والوں کو سوگوار کر دیازبیر بلوچ کی صحافتی زندگی کو صرف خبر لکھنے یا اخبار چلانے تک محدود نہیں کیا جا سکتا وہ صحافت کو ایک ذمہ داری سمجھتے تھےبلوچستان جیسے خطے میں جہاں سیاسی سماجی اور معاشی مسائل ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں وہاں صحافت کا سفر آسان نہیں رہاانہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں خبر کی اہمیت صحافی کی ذمہ داری اور معاشرے کے سامنے حقائق رکھنے کی ضرورت کو مقدم رکھا ان کے ساتھیوں اور صحافتی حلقوں کے نزدیک ان کی شناخت ایک ایسے صحافی کی تھی جو پیشہ ورانہ وقار اور ذمہ دارانہ صحافت کو اہمیت دیتے تھےبلوچستان میں صحافت کرنا ہمیشہ سے ایک مشکل کام رہا ہے دور دراز علاقےمحدود وسائل سیاسی کشیدگی اور مختلف نوعیت کے مسائل صحافیوں کے لیے مسلسل چیلنج بنے رہتے ہیں
ایسے ماحول میں زبیر بلوچ نے صحافت کو اپنا میدان بنایا اور طویل عرصے تک اس شعبے سے وابستہ رہےان کی شخصیت میں ایک صحافی کے ساتھ ساتھ ایک خیر خواہ ایک ملنسار دوست ایک شفیق استاد کے پہلو نمایاں نظر اتے تھے انہوں نے بلوچستان کے صحافتی منظرنامے میں بھی اپنی ایک شناخت قائم کی وہ معاشرے کے مسائل کو سامنے لاتاسوال اٹھاتا اور ان لوگوں کی آواز بننے کی کوشش کرتا جن کی آواز اکثر طاقت کے شور میں دب جاتی زبیر بلوچ کی صحافتی زندگی بھی اسی سوچ کی عکاس سمجھی جاتی ہے ان کا قلم بلوچستان کے حالات عوامی مسائل اور معاشرتی معاملات کو صحافتی انداز میں سامنے لانے کا ذریعہ بنا رہا وہ صحافت کو معاشرے کے لیے ایک ذمہ داری سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد انہیں صرف ایک اخبار کے ایڈیٹر کے طور پر نہیں بلکہ صحافت کے ایک معتبر نام کے طور پر یاد کیا جاتا ہے
زبیر بلوچ نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی حقائق پر مبنی ذمہ دار اور بااصول صحافت کی فروغ کے لیے وقف کر رکھا تھا ان کی خدمات کو صرف صحافتی حلقوں نے نہیں بلکہ ہر طبقے نے ہر سطح پر تسلیم کیا ہے صحافی کی اصل زندگی اس کی تحریروں خیالات اور چھوڑے ہوئے اثرات میں زندہ رہتے ہے زبیر بلوچ کا قلم آج خاموش ہو چکا ہے مگر ان کی صحافتی خدمات ان لوگوں کے لیے ایک حوالہ ہیں جو بلوچستان میں صحافت کے میدان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں ان کے جانے سےایک ایسا تجربہ رخصت ہوا جسے برسوں کے مشاہدے محنت اور صحافتی سفر نے تشکیل دیا تھا زبیر بلوچ کی زندگی کا سب سے بڑا پیغام سچ کی تلاش عوامی مسائل کی ترجمانی اور معاشرے کے سامنے حقائق رکھنے کا نام ہے
آج بلوچستان کے نوجوان صحافیوں کے لیے ان کی زندگی ایک مثال ہے کہ محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود صحافت کے شعبے میں اپنا مقام بنایا جا سکتا ہے
کچھ لوگ رخصت ہو کر بھی ختم نہیں ہوتے وہ اپنے الفاظ میں اپنی تحریروں میں اپنے ساتھیوں کی یادوں میں اور اپنے شعبے میں چھوڑے گئے نقش میں زندہ رہتے ہے زبیر بلوچ بھی بلوچستان کی صحافت کا ایسا ہی ایک ستارہ تھاوہ ستارہ جو طویل عرصے تک صحافتی افق پر روشن رہا خبر کی دنیا میں اپنا کردار ادا کرتا رہا اور بالآخراس دنیا سے رخصت ہوگیا ان کی خدمات اور صحافتی کردار آنے والے وقت میں بھی یاد رکھے جائیں گےزبیر بلوچ صحافت کا ایک ستارہ تھاجو آج ہماری نظروں سے اوجھل ضرور ہوگیا ہے
مگر اپنے خدمات اپنے یادوں اور اپنے صحافتی ورثے کی صورت میں ایک پوری کہکشاں چھوڑ کر گئے ہیں

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.