زرداری سے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی ملاقات، بلوچستان کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہفتہ کو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پریس سیکرٹری وزیراعلی بلوچستان کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو صوبے کی موجودہ انتظامی و سیاسی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زیارت سانحے کے متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی اور ان کے جائز مطالبات کی تکمیل کے لیے حکومت نے بھرپور اقدامات کیے ہیں، جبکہ لواحقین کے مطالبے پر سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جاسکیں وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام اور سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جلد آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں پارلیمان کے اندر موجود سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پارلیمان سے باہر سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ دہشت گردی اور امن و استحکام کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے
اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کی حالیہ لہر میں شہید ہونے والے پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ سانحات میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے دکھ اور تکلیف کو محسوس کرتا ہوں اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہوں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے زیارت سانحے کے لواحقین کے دکھوں کے ازالے اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس مشکل صورتحال میں مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔
انہوں نے مذاکراتی عمل کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سیاسی مکالمے میں ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ بامقصد ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے، خواہ وہ حکومت میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں, انہوں نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کا مؤقف پہلے دن سے واضح اور غیر متزلزل ہے، اور پارٹی دہشت گردی کے ناسور کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ریاستی اداروں اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

