Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

60 سال کی عالمی مہم، پھر بھی 739 ملین بالغ ناخواندہ کیوں؟

تحریر: مطیبہ ناز

دنیا بدل چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کے انداز بدل دیے، مصنوعی ذہانت نے علم اور معلومات تک رسائی کے نئے دروازے کھول دیے، اور انسان چاند سے آگے کی منزلوں کے خواب دیکھ رہا ہے۔ لیکن اسی دنیا میں 739 ملین نوجوان اور بالغ اب بھی بنیادی خواندگی کی مہارتوں سے محروم ہیں۔

یہ صرف ایک عدد نہیں، ایک سوال ہے۔

اگر دنیا نے اتنی ترقی کر لی ہے تو پھر خواندگی کی یہ جنگ ابھی تک ختم کیوں نہیں ہوئی؟

یونیسکو نے 1966 میں 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی قرار دیا تھا۔ 2026 میں اس دن کو 60 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ چھ دہائیوں میں دنیا نے خواندگی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن منزل اب بھی دور ہے۔

یونیسکو کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں کم از کم 739 ملین نوجوان اور بالغ بنیادی خواندگی کی مہارتوں سے محروم تھے۔ دوسری جانب، تقریباً 10 میں سے 4 بچے پڑھنے میں کم از کم مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ رہے۔

یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے بچے اسکول جاتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ اسکول جانے کے بعد وہ سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں خواندگی کا مسئلہ صرف اسکول تک محدود نہیں رہتا بلکہ تعلیم کے معیار تک پہنچ جاتا ہے۔

پاکستان: ہم کہاں کھڑے ہیں؟

پاکستان کی تصویر بھی اس عالمی صورتحال سے مختلف نہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے HIES 2024-25 کے مطابق، 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ شرح 60 فیصد کے مقابلے میں تین فیصد بہتری ہے۔ مردوں کی شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین کی 54 فیصد ہے۔

یعنی صنفی فرق اب بھی تقریباً 19 فیصد پوائنٹس پر موجود ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق بھی نمایاں ہے۔ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔

سادہ لفظوں میں کہیں تو پاکستان میں آپ کہاں رہتے ہیں اور آپ مرد ہیں یا عورت—یہ دونوں عوامل آپ کے تعلیمی امکانات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

بلوچستان: سب سے بڑا سوال

اب تصویر کو بلوچستان تک لاتے ہیں۔

HIES 2024-25 کے مطابق پنجاب کی شرحِ خواندگی 68 فیصد، سندھ 58 فیصد، خیبرپختونخوا 58 فیصد جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 49 فیصد ہے۔ یوں چاروں صوبوں میں بلوچستان کی شرحِ خواندگی سب سے کم ہے۔

مگر 49 فیصد صرف ایک عدد نہیں۔

اس کے پیچھے وہ بچے ہیں جو اسکول تک نہیں پہنچ پاتے، وہ خاندان ہیں جن کے لیے تعلیم اب بھی آسان انتخاب نہیں، اور وہ علاقے ہیں جہاں اسکول تک رسائی ہی ایک چیلنج بن جاتی ہے۔

پاکستان میں مجموعی طور پر بھی تعلیمی رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یونیسف کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.1 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی آبادی کا تقریباً 35 فیصد بنتے ہیں۔

یہ اعداد کسی بھی تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا سوال ہیں۔

کیونکہ آج کا اسکول سے باہر بچہ صرف آج کی تعلیمی کمی نہیں، بلکہ آنے والے کل کی شرحِ خواندگی بھی طے کرتا ہے۔

لڑکی اسکول سے باہر ہو تو نقصان صرف ایک گھر کا نہیں

پاکستان میں خواتین کی شرحِ خواندگی 54 فیصد ہے، جبکہ بلوچستان میں تعلیمی محرومی کا چیلنج مزید گہرا ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم کو صرف اسکول اور کتاب تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ تعلیم ایک لڑکی کے لیے بہتر روزگار، معاشی خودمختاری، صحت سے متعلق بہتر معلومات اور اپنے فیصلوں میں زیادہ اختیار کے امکانات پیدا کرتی ہے۔

اس لیے ایک لڑکی کا اسکول سے باہر رہ جانا صرف ایک تعلیمی موقع کا ضائع ہونا نہیں۔

یہ آنے والے کئی مواقع کے دروازے بند ہونے کا خطرہ بھی ہے۔

کیا صرف مزید اسکول بنا دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟

شاید نہیں۔

خاص طور پر بلوچستان جیسے وسیع رقبے والے صوبے میں چیلنج صرف اسکولوں کی تعداد کا نہیں۔ فاصلے ہیں، اساتذہ کی دستیابی ہے، بنیادی سہولیات ہیں، غربت ہے، اسکول چھوڑنے کا رجحان ہے، اور لڑکیوں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی تعلیمی ماحول کا سوال بھی موجود ہے۔

اس لیے صرف enrolment بڑھانا کافی نہیں۔

بچہ اسکول آئے، اسکول میں رہے، اور وہاں واقعی پڑھنا اور لکھنا سیکھے—اصل کامیابی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

کیونکہ اگر بچہ برسوں اسکول میں موجود رہے لیکن بنیادی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے تو صرف حاضری کو تعلیمی کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔

تصویر میں امید بھی ہے

پوری کہانی مایوسی کی نہیں۔

جون 2026 میں یونیسف کے مطابق Balochistan Education Support Programme-II (BES-II) کے تحت پانچ سال کے دوران 760,000 سے زائد بچوں کو expanded learning opportunities اور مضبوط تعلیمی نظام کے ذریعے تعلیم تک رسائی ملی۔ یہ پروگرام یورپی یونین، حکومتِ بلوچستان کے School Education Department اور یونیسف کی شراکت سے مکمل ہوا۔

یہ مثال دکھاتی ہے کہ درست منصوبہ بندی، شراکت داری اور targeted interventions کے ذریعے بڑی تعداد میں بچوں تک تعلیمی مواقع پہنچائے جا سکتے ہیں۔

لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ایسی کوششوں کو کس حد تک مستقل بنایا جاتا ہے، ان کا دائرہ کتنا وسیع کیا جاتا ہے، اور کیا ان کے نتیجے میں بچوں کی learning outcomes بھی بہتر ہوتی ہیں۔

60 سال بعد بھی ایک سوال باقی ہے

عالمی یومِ خواندگی ہمیں صرف یہ بتانے کے لیے نہیں آتا کہ دنیا کی literacy rate کتنی ہے۔

یہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔

دنیا میں 739 ملین نوجوان اور بالغ اب بھی بنیادی خواندگی سے محروم ہیں۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی 63 فیصد ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 49 فیصد تک محدود ہے۔

اعداد اپنی جگہ، مگر ان اعداد کے پیچھے انسان ہیں۔

وہ بچہ جو کتاب نہیں پڑھ سکتا۔

وہ لڑکی جو اسکول نہیں جا سکتی۔

وہ بالغ جو آج بھی ایک سادہ تحریر سمجھنے کے لیے کسی دوسرے کا محتاج ہے۔

شاید اسی لیے 60 سال بعد بھی عالمی یومِ خواندگی کا بنیادی سوال وہی ہے:

ہم نے کتنے اسکول بنائے؟ یہ کافی نہیں۔

ہم نے کتنے لوگوں کو واقعی پڑھنا، سمجھنا اور سیکھنا سکھایا؟ اصل سوال یہ ہے۔

کیونکہ ترقی صرف بلند عمارتوں، تیز انٹرنیٹ یا جدید ٹیکنالوجی کا نام نہیں۔

ترقی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں ایک انسان خود پڑھ سکے، سمجھ سکے، سوال کر سکے اور اپنے لیے بہتر فیصلہ کر سکے۔

اور جب دنیا میں کروڑوں لوگ اب بھی اس بنیادی صلاحیت سے محروم ہیں، تو خواندگی کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔

بس اس کا اگلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.