رواداری اور انسان دوستی کو شمالی امریکا میں مزید فروغ دینے کے عزم کے ساتھ شاہ لطیف انسٹیٹیوٹ آف نارتھ امریکا (SLINA) کی تنظیم نو اور دائرۂ کار کو وسعت دینے کے حوالے سے اہم اجلاس ہوسٹن میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین محمود ڈاہری نے کی، جبکہ جنرل سیکریٹری جی۔ شبیر جتوئی سمیت تنظیم کے نئے و سابق اراکین اور عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تنظیم کو ٹیکساس تک محدود رکھنے کے بجائے اس کا دائرۂ کار پورے شمالی امریکا تک پھیلایا جائے گا۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے پیغامِ محبت، بھائی چارے، امن اور انسانی یکجہتی کو ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے امریکا اور کینیڈا کے مختلف علاقوں تک پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ شاہ لطیف کلچرل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکساس گزشتہ 16 برس سے ادبی، ثقافتی اور صوفیانہ روایات کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے، جسے اب وسیع تر تنظیمی شکل دیتے ہوئے SLINA کے نام سے پورے شمالی امریکا میں فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں تنظیم کے نئے By-Laws متفقہ طور پر منظور کیے گئے اور اراکین نے ان پر اتفاقِ رائے سے دستخط کیے۔ نئے قواعد کے تحت آئندہ اجلاس میں نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور دیگر عہدیداران کا انتخاب کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ SLINA کو باقاعدہ ممبرشپ کی بنیاد پر منظم کیا جائے گا جبکہ امریکا کی مختلف ریاستوں اور کینیڈا میں نئی شاخیں قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں میر طلعت ٹالپر، ظہیر بلوچ، ڈاکٹر عیسیٰ بھرگڑی، سجاد حسین مہر، جان محمد نظامانی، سعید احمد میمن، آفتاب احمد میمن اور ڈاکٹر شفقت ڈاہری نے شرکت کی۔
شوگر لینڈ، ٹیکساس کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منعقدہ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین محمود ڈاہری کی جانب سے شرکاء کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔
اختتام پر SLINA کی قیادت نے تمام اراکین کے تعاون اور وابستگی کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ شاہ لطیف کے پیغامِ محبت اور انسان دوستی کی خوشبو شمالی امریکا کے مختلف خطوں تک پہنچانے کے لیے یہ سفر مزید مضبوطی سے جاری رہے گا۔

