بات مزاحمت کی جو آپ کر رہے ہیں، ہم شروع سے یہ مزاحمت، جو نواب اکبر بگٹی کے بعد شروع ہوئی، ہم اس کے حق میں نہیں تھے،
دیکھیں، بات مزاحمت کی جو آپ کر رہے ہیں، ہم شروع سے یہ مزاحمت، جو نواب اکبر بگٹی کے بعد شروع ہوئی، ہم اس کے حق میں نہیں تھے، ہم اس کے حق میں نہیں ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کیا سوچتی ہے، کیا نہیں سوچتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جو پوری تحریک ہے، اس سے بلوچ اور بلوچستان کے لوگوں کے انٹرسٹ سرو نہیں ہو رہے۔
اور ہمارا جو ان کے ساتھ اختلاف ہے، وہ بالکل ایڈیالوجیکل ہے، پولیٹیکل ہے۔ اور ہم وہ واحد جماعت ہیں کہ ملٹنٹس کو پولیٹیکل سائیڈ میں ہم نے کنورٹ کیا ہے، ہم نے ان کے بیانیوں کو کنورٹ کیا ہے۔
ہم نے اسی لیے نہیں کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیا سوچتی ہے، فوج کیا سوچتی ہے۔ ہم، ایز اے نیشنل پارٹی، یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیانیے بلوچستان اور بلوچ کے حق میں نہیں۔
اسی لیے اگر آپ اس موومنٹ کو کمپیئر کریں پہلے موومنٹ سے، مطلب اس وقت نیشنل پارٹی کے، میں اپنی پارٹی کی بات کر رہا ہوں، اس وقت ہمارے 57 لوگ ان لوگوں نے مارے ہیں، جن میں مولا بخش دستی جیسا ہمارا سیاسی کارکن اور انٹلیکچوئل، اینڈ ہی واز اے فرینڈ ٹو بڑے پلیجو صاحب، ان سب کو انہوں نے مارا ہے۔
تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جو موومنٹ ہے، اٹ اِز آن اے رانگ پاتھ، جس کا رزلٹ کچھ نہیں نکلے گا سوائے بلوچستان میں بلوچوں کے درمیان برادر کشی۔
میر حاصل بزنجو
