کوئٹہ (3 نومبر 2026): صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی خودمختاری کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے مستند اعداد و شمار، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک ضروری ہے۔
کوئٹہ میں یو این ایف پی اے، محکمہ ترقی نسواں بلوچستان، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور یونیسیف کے اشتراک سے قومی صنفی مساوات کے اشاریوں کے فریم ورک سے متعلق دو روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کی ترقی کے لیے محض پالیسی اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی بنیاد پر منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2020-21 کے مطابق بلوچستان میں 15 سال سے زائد عمر کی خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح تقریباً 8 فیصد جبکہ مردوں کی شرح 43.6 فیصد ہے، جو خواتین کی معاشی شمولیت میں نمایاں فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کا کہنا تھا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار کے مواقع، مالی وسائل تک رسائی اور محفوظ ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے قانونی حقوق، وراثت میں حصہ، صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور فیصلہ سازی کے اداروں میں ان کی نمائندگی بڑھانے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ قومی صنفی مساوات کا فریم ورک تعلیم، صحت، معاشی مواقع، سیاسی شرکت اور قیادت سمیت مختلف شعبوں میں خواتین اور مردوں کے درمیان موجود تفاوت کی نشاندہی اور حکومتی پالیسیوں کی مؤثریت جانچنے میں معاون ثابت ہوگا۔
مشیر ترقی نسواں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان خواتین کے حقوق کے تحفظ، بااختیاری اور انہیں ترقی کے قومی و صوبائی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

