Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

ایڈوکیٹ منیر احمد خان کاکڑ کا صحافی سید عبید آغا، ڈاکٹر ثناء اور پاکستان ایمیج نیوز کے دفتر پر این سی سی آئی اے کے چھاپوں کی مذمت

کوئٹہ: پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے صحافی سید عبید آغا، ڈاکٹر ثناء کے گھروں اور پاکستان ایمیج نیوز کے دفتر پر چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے آزادی اظہارِ رائے، صحافتی آزادی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی کارروائیاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دینی چاہئیں۔ کسی بھی شہری، صحافی یا سماجی کارکن کے خلاف کارروائی کرتے وقت قانونی تقاضوں، شفافیت اور بنیادی حقوق کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے یا سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کو دبانے کے بجائے اگر کوئی قابلِ دست اندازی جرم سامنے آئے تو اس کی تحقیقات شواہد اور قانون کے مطابق ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور شہریوں کو ہراساں کرنے یا ان کے گھروں اور دفاتر پر چھاپوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے تاثر سے جمہوری معاشرے میں آزادی اظہار کے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 نافذ کیا گیا تھا، جس میں جنوری 2025 میں ترامیم کی گئیں۔ اس قانون کا مقصد آن لائن جرائم، ہراسانی، سائبر فراڈ، غیر قانونی رسائی اور دیگر الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ہے، تاہم اس قانون کے استعمال میں شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کا تحفظ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شکایت کی وصولی کے بعد این سی سی آئی اے متعلقہ معاملے کا جائزہ لے کر انکوائری شروع کر سکتی ہے، متعلقہ افراد کو طلب کرکے ان کا مؤقف اور وضاحت حاصل کی جاتی ہے، ڈیجیٹل مواد اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جاتا ہے اور جرم کے شواہد ملنے کی صورت میں باقاعدہ تفتیش اور قانونی کارروائی آگے بڑھائی جاتی ہے۔قانون کے تحت این سی سی آئی اے کا مجاز افسر تفتیش کا اختیار رکھتا ہے۔ متعلقہ ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے لیے دفعہ 31 کے تحت تحریری نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے، جبکہ دفعہ 33 کے تحت کسی مخصوص مقام پر تلاشی اور ڈیجیٹل آلات یا مواد کی ضبطی کے لیے عدالت سے وارنٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ قانون میں مخصوص حالات میں بغیر وارنٹ تلاشی کی محدود گنجائش بھی موجود ہے، جس کے لیے عدالتی نگرانی کی شرط رکھی گئی ہے۔ گرفتاری کی صورت میں ملزم کو قانونی تقاضوں کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔منیر احمد خان کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ صحافی سید عبید آغا، ڈاکٹر ثناء اور پاکستان ایمیج نیوز کے دفتر پر چھاپوں کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، متعلقہ افراد کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار اور آرٹیکل 19-A معلومات تک رسائی کا حق فراہم کرتا ہے۔ ان حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہونا چاہیے۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.